چار رکنی کمیشن کی تشکیل کی تجویز

Image caption چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کمیشن اس بات کا بھی جائزہ لے گا کہ حفاظتی پُشتے توڑنے سے دوسرے لوگوں کی فصلوں اور گھروں کو نقصان پہنچا ہے اُس کا معاوضہ حکومت سے لینے میں حق بجانب ہیں یا اُن افراد سے جنہوں نے حفاظتی پُشتے توڑے ہیں

سپریم کورٹ نے ملک میں حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کا تخمینہ لگانے اور مختلف جگہوں سے مبینہ طور پر حفاظتی پُشتے توڑنے سے متعلق ایک چار رکنی کمیشن تشکیل دینے کی تجویز دی ہے۔

یہ کمیشن واپڈا کے سابق چیئرمین شمس الملک کی سربراہی میں کام کرے گا اور اس کمیشن میں صوبہ سندھ سے اے کے لودھی، صوبہ پنجاب سے ظہیر الدین اور صوبہ بلوچستان سے فتح خان شامل ہیں۔اس کمیشن کا نوٹیفکیشن اس کمیشن میں تجویز کردہ افراد سے مشاورت کے بعدچودہ دسمبر کو جاری کیا جائے گا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ملک کے تین صوبوں پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے مختلف علاقوں میں حالیہ سیلاب کے دوران بااثر افراد کی جانب سے اپنی زمینیں بچانے کے لیے مبینہ طور پر مختلف جگہوں سے حفاظتی پُشتے توڑنے سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

یہ درخواستیں سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین جان محمد جمالی، رکن قومی اسمبلی ماروی میمن اور صوبہ سندھ کے سابق گورنر فخرالدین جی ابراہیم نے دائر کی تھیں۔

صوبہ سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل یوسف لغاری نے مجوزہ عدالتی کمیشن کی تشکیل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس کمیشن کے چیئرمین شمس الملک کالا باغ ڈیم کے حامی ہیں اور سندھ کے عوام کو اُن کی بطور چیئرمین تعیناتی پر تحفظات ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس کمیشن کو جو مینڈٹ دیا جائے گا اُس میں شامل ہے کہ وہ چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹری صاحبان کی طرف سے سیلاب سے متعلق جو رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی ہے اُس کو مدنظر رکھیں۔ اس کے علاوہ اُن افراد کی بھی نشاندہی کریں جنہوں نے اپنی زمینیں بچانے کے لیے مختلف جگہوں سے حفاظتی پُشتے توڑے تھے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ کمیشن اس بات کا بھی جائزہ لے گا کہ حفاظتی پُشتے توڑنے سے دوسرے لوگوں کی فصلوں اور گھروں کو نقصان پہنچا ہے اُس کا معاوضہ حکومت سے لینے میں حق بجانب ہیں یا اُن افراد سے جنہوں نے حفاظتی پُشتے توڑے ہیں۔

سماعت کے دوران چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرل نے اپنی اپنی حکومتوں کے جواب داخل کروا دیے ہیں۔

واضح رہے کہ صوبہ سندھ کے وزیر اعلی قائم علی شاہ نے گُزشتہ روز پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ د ریائے سندھ پر ٹوڑھی اور ایم ایس حفاظتی بند ٹوٹنے کی وجوہات معلوم کرنے والے عدالتی کمیشن کا کہنا ہے کہ ان بندوں میں شگاف نہیں ڈالے گئے تھے جبکہ پانی کے دباؤ کی وجہ سے یہ بند ٹوٹے تھے۔

صوبہ پنجاب کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ مختلف جگہوں سے حفاظتی پُشتے توڑنے سے متلعق لاہور ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں ایک کمیشن کام کر رہا ہے جو جلد اپنی رپورٹ جلد پیش کردے گا۔

اسی بارے میں