اڈیالہ جیل: ’افراد ہماری تحویل میں‘

پاکستان کے خفیہ اداروں آئی ایس آئی اور ایم آئی نے جمعرات کے روز سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد لاپتہ ہونے والے گیارہ افراد ان کی تحویل میں ہیں۔

یہ بیان خفیہ ایجنسیوں اور وفاق کے وکیل راجہ ارشاد نے جمعرات کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے دیا۔

یاد رہے کہ لاپتہ ہونے والے افراد کے مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کو نوٹس جاری کیے گئے تھے جس کے بعد ان اداروں نے عدالت میں ایک بیان داخل کرایا گیا تھا جس میں انہوں نے پہلےموقف اختیار کیا تھا کہ یہ افراد ان کی تحویل میں نہیں ہیں۔

جمعرات کو سماعت کے دوران راجہ ارشاد نے بتایا کہ شدت پسندوں نے خفیہ ایجنسیوں کے بھیس میں گیارہ افراد کو اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد اپنے ساتھ قبائلی علاقوں میں لے گئے تھے جہاں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ ملک دشمن عناصر کی طرف سے اس طرح کے اقدامات سے ملک کی خفیہ ایجنسیوں کو بدنام کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج نے پچیس شدت پسندوں کو گرفتار کیا ہے جن میں یہ گیارہ افراد بھی شامل ہیں۔ تاہم وفاقی حکومت اور خفیہ ایجنسیوں کے وکیل نے نہ تو عدالت کو یہ بتایا کہ ان افراد کو کہاں سے گرفتار کیا گیا اور کب گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ افراد مقامی انتظامیہ کی تحویل میں ہیں اور ان افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

راجہ ارشاد کا کہنا تھا کہ ان افراد کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ افراد نہ صرف ایک لیفٹیننٹ جنرل کے قتل میں ملوث ہیں بلکہ اُنہوں نے راولپنڈی میں پریڈ لین میں مسجد پر بھی حملہ کیا تھا جس میں چالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

وفاق اور خفیہ ایجنسیوں کے وکیل راجہ ارشاد جو سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل بھی رہے ہیں، عدالت کو بتایا کہ گرفتار ہونے والے افراد نہ صرف بڑے شدت پسند تھے بلکہ وہ خودکش حملوں کے لیے حملہ آور بھی تیار کرتے تھے۔

ان بازیاب ہونے والے افراد میں سے ایک ملزم عتیق الرحمٰن کے وکیل الیاس صدیقی کا کہنا تھا کہ عدالت سرکاری وکیل سے پوچھے کہ یہ افراد توگُزشتہ سات ماہ سے لاپتہ تھے تو پھر اچانک کیسے بازیاب ہوگئے جس پر بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے کا کہنا تھا کہ اس بات کو چھوڑیں اُنہیں خوش ہونا چاہیے کہ اُن کا موکل بھی بازیاب ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ سابق فوجی سربراہ پرویز مشرف کے طیارے پر حملے، راولپنڈی میں حمزہ کیمپ پر خودکش حملہ اور کامرہ میں پاکستانی فضائیہ کی بس پر ہونے والے خودکش حملے سمیت چار مقدمات میں گرفتار ہونے والے گیارہ افراد کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اس سال اپریل میں عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا تھا۔

رہائی کے بعد ان افراد کو نامعلوم مسلح افراد زبردستی گاڑیوں میں ڈال کر لے گئے تھے۔ لاپتہ ہونے والے افراد کے وکلاء اور رشتے داروں کا کہنا ہے کہ انہیں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے اغوا کیا ہے۔

اسی بارے میں