جنوبی وزیرستان: جھڑپیں، متضاد دعوے

Image caption جنوبی وزیرستان میں دو ہزار نو کے فوجی آپریشن کے بعد چار لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوکر دوسرے علاقوں میں منتقل ہو گئے تھے

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورس اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہے۔جس میں دونوں طرف سے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں۔

جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے ایک اعلٰی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ جمعرت کی شام تحصیل سراروغہ کے مضافاتی علاقے میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کےخلاف کاروائی کی ہے جس میں ایک درجن سے زیادہ شدت پسند مارے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کاروائی کے دوران سکیورٹی فورسز کے چار اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں اہلکار نے بتایا کہ ان کو سکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں کی اطلاع نہیں ملی ہے اور نہ ہی ان کو یہ علم ہے کہ ان کا کوئی اہلکار لاپتہ ہوگیا ہے۔

دوسری طرف کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان اعظم طارق نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی شام سررواغہ کے علاقے شیرنہ میں ان کے مُسلح ساتھیوں نے سکیورٹی فورسز کے ان اہلکاروں پر حملہ کردیا جو ٹانک سے واپس آنے والے متاثرین کی حفاظت پر مامور تھے۔

نہوں نے بتایا کہ حملے میں سکیورٹی فورسز کو کافی جانی نقصان پہنچا ہے لیکن ان کو ہلاکتوں کی تعداد معلوم نہیں ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے ساتھی سکیورٹی فورسز کے تین اہلکاروں کو اغواء کر کے اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

یا د رہے کہ جنوبی وزیرستان میں دو ہزار نو کے فوجی آپریشن کے بعد چار لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوکر ٹانک ڈیرہ اسماعیل منتقل ہوگئے تھے۔اب ایک ہفتے سے ان متاثرین کی واپسی کا عمل شروع ہوا ہے۔جس میں اب تک سو سے زیادہ خاندان واپس جاچکے ہیں اور طالبان نے پہلے ہی سے دھمکی دی تھی کہ واپس آنے والے متاثرین پر حملے کریں گے۔

اسی بارے میں