مہمند:’حکومتی مخبر‘ کی لاش برآمد

مہمند ایجنسی/ فائل فوٹو
Image caption سکیورٹی اہل کاروں کے مطابق مذکورہ شخص کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک شخص کی بجلی کے کھمبے سے لٹکی ہوئی لاش ملی ہے جنھیں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا ہے۔

مہمند ایجنسی کے ایک اعلی سرکاری اہلکار نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ یہ لاش جمعہ کی صبح تحصیل صافی کے علاقے زیارت چوک سے ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نامعلوم افراد نے پہلے اس شخص کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا اور بعد میں اس کی لاش کو بجلی کے ایک کھمبے سے لٹکا دی۔

اہلکار کے مطابق لاش کے ساتھ ایک خط بھی ملا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ مذکورہ شخص حکومت کا مخبر تھا اور جو بھی سرکار کےلیے جاسوسی کرے گا اس کا یہی انجام ہوگا۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ مہمند ایجنسی کے مقامی طالبان نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ مذکورہ شخص کسی سرکاری ادارے کا سبکدوش ملازم تھا اور حکومت کےلیے مبینہ طورپر مخبری کا کام کرتے تھے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص مہمند ایجنسی کے دور دراز علاقوں میں عام استمعال کی چیزیں فروخت کرتا تھا جبکہ ان کا تعلق دوابہ شب قدر کے علاقے سے بتایا جاتا ہے۔

ادھر مہمند ایجنسی کے علاقے انبار میں سکیورٹی چیک پوسٹ کے قریب ہونے والے ایک بم دھماکے میں دو سکیورٹی اہلکاروں کی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

خیال رہے کہ مہمند ایجنسی میں پچھلے چند ماہ سے مقامی عسکریت پسندوں کے حملوں میں تیزی دیکھنے میں آرہی ہے۔ چند دن پہلے بھی ایجنسی کے مرکز غلنئی میں ہونے والے دو خودکش حملوں میں کم سے کم بیالیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ ان دھماکوں کی ذمہ داری مقامی طالبان نے قبول کی تھی۔

اسی بارے میں