فراڈ: این جی او کو امریکی امداد معطل

Image caption ایو ایس ایڈ پاکستان میں مختلف شعبوں میں کروڑوں ڈالر کی امداد دے رہا ہے

امریکی ادارے یو ایس ایڈ نے فراڈ کے الزامات پر پاکستان میں تعلیم کے شعبے کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او کو امداد روک دی ہے۔

یو ایس ایڈ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر سرکاری ادارے اکیڈمی فار ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ کو یو ایس ایڈ آفس آف انسپکٹر جنرل کی تحقیقات کے مکمل ہونے تک امریکی حکومت کی طرف سے کوئی امداد جاری نہیں کی جائے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یو ایس ایڈ آفس آف انسپکٹر جنرل کی تحقیقات میں ابتدائی طور پر سنجیدہ نوعیت کی بدعنوانی، بد انتظامی اور اندرونی کنٹرول کے فقدان کے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے این جی او کی مالی ساکھ کے بارے میں شدید تشویش پیدا ہوئی ہے۔

یہ تحقیقات گزشتہ سال موسمِ بہار میں شروع کی گئی تھی اور یو ایس ایڈ کو ان کے ابتدائی اس سال ہی موصول ہوئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یو ایس ایڈ امریکی امداد میں خرد برد کے الزامات کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔ ’یو ایس ایڈ ان تمام پروگراموں کا ازسرِنو جائزہ لے رہی ہے جس سے اکیڈمی فار ایجو کیشنل ڈیویلپمنٹ کسی بھی حیثیت سے منسلک رہی ہے۔ نظرثانی کے اس عمل سے ایسے اقدامات لینے میں مدد ملے گی جن سے امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کا تحفظ کیا جا سکے۔‘

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یو ایس ایڈ آفس آف انسپکٹر جنرل نے امریکی کانگریس کو دی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ خریداری میں فراڈ کے شواہد سامنے آنے کے بعد یو ایس ایڈ نے پاکستان میں پندرہ کروڑ ڈالر کا ایک کنٹریکٹ منسوخ کر دیا ہے۔

دوسری طرف اکیڈمی آف ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ کے ویب سائٹ میں چھپنے والے ایک بیان میں کیا گیا ہے کہ یو ایس ایڈ اس کے خلاف پاکستان اور افغانستان میں چلنے والے ایک ایک پروجیکٹ کے بارے میں تحقیق کر رہا ہے۔

’اے ای ڈی نے پرواجیکٹ کی نگرانی کے نظام اور وسائل کی نگرانی میں بہتری لانے کے سلسلے میں اہم اقدامات کیے ہیں۔‘

رائٹرز نے ایو ایس ایڈ کی ایک ترجمان لارس اینڈرسن کے حوالے سے کہا ہے کہ اکیڈمی فار ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ کے پاس گورننس اور صحت کے شعبے میں یو ایس ایڈ کے چونسٹھ کروڑ ڈالر کے ٹھیکے ہیں۔ ترجمان کے مطابق ان تمام ٹھیکوں پر کام جاری رہے گا۔

اسی بارے میں