بینظیرکیس: پولیس افسر شاملِ تفتیش

بینظیر بھٹو فائل فوٹو
Image caption بینظیر بھٹو ستائیس دسمبر 2007 کو ایک حملے میں ہلاک کر دی گ|ئی تھیں۔

راولپنڈی میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے سنیچر کو سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرنے والی ایف آئی اے کی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ سابق سٹی پولیس افسر راولپنڈی ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس پی راول ٹاؤن خرم شہزاد کو شامل تفتیش کرے۔

عدالت نے تحقیقاتی ٹیم کو حکم دیا ہے کہ ان پولیس افسران سے تفتیش ایک ہفتے کے اندر مکمل کرکے اس کی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔ مذکورہ پولیس افسران نے متعلقہ عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری لے رکھی ہے اور سماعت کے دوران عدالت نے ان افسران کی عبوری ضمانت میں ایک ہفتے کی توسیع کی منظوری دی ہے۔

سابق وزیر اعظم ستائیس دسمبر سنہ دوہزار سات کو لیاقت باغ کے باہر ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوگئی تھیں۔ اُس وقت کے راولپنڈی پولیس کے سربراہ سعود عزیز پر الزام ہے کہ اُنہوں نے نہ صرف جائے وقوعہ کو دھلوا دیا تھا بلکہ انہوں نے بینظیر بھٹو کی لاش کا پوسٹ مارٹم بھی نہیں ہونے دیا۔

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج رانا نثار نے بینظیر بھٹو قتل کے مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں کی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ملزمان کے وکیل ملک رفیق نے اپنے موکلوں کی ضمانت کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ استغاثہ نے وقوعہ کے روز باہر کی سکیورٹی سے متعلق اعتراضات اُٹھائے ہیں لیکن گاڑی کے اندر جو سکیورٹی کے مسائل تھے اُن پر کوئی بات نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ گاڑی بُلٹ پروف ہونے کے ساتھ ساتھ ساؤنڈ پروف بھی تھی جس سے باہر ہونے والے شورشرابے کی آواز گاڑی کے اندر نہیں جاتی۔ اُنہوں نے کہا کہ خودکش حملے کا نشانہ بننے والی گاڑی میں بینظیر بھٹو کے علاوہ جو لوگ سوار تھے اُنہیں شامل تفتیش کیوں نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی بھی چھان بین کی جائےکہ بینظیر بھٹو نے کس کے کہنے پر گاڑی کی چھت سے باہر جھانکا تھا۔ جس کے بعد اُنہیں خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا حالانکہ اُن پر اس سے پہلے کراچی میں بھی حملہ ہو چکا تھا جس میں ساٹھ سے زائد لوگ مارے گئے تھے۔

ملک رفیق کا کہنا تھا کہ حکومت میں اہم عہدوں پر فائض دو وفاقی وزرا حادثے سے پہلے ہی اسلام آباد کیسے پہنچ گئے تھے جن میں بینظیر بھٹو کے اُس وقت کے سکیورٹی انچارج بھی شامل تھے۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک اُس وقت بینظیر بھٹو کی سکیورٹی کے نگران تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ جب تک اس معاملے کی تفتیش نہ کی جائے تو پھر اصل حقائق پر نہیں پہنچا جا سکتا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس مقدمے کی تحقیقاتی ٹیم اُن کے موکلوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہی ہے جب کہ اُن کے خلاف کوئی ثبوت بھی اس ٹیم کو نہیں ملے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ اُس وقت کے سٹی پولیس افسر اور ایس پی راول ٹاؤن بینظیر بھٹو کے قتل کی سازش میں ملوث تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کی ٹیم نے عدالت میں اس مقدمے کا جوچالان پیش کیا ہے اُس میں بھی اُن کے موکلوں کو کالم نمبر دو میں رکھا گیا ہے۔ مزید دلائل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کی اس دلیل کو درست تسلیم کیا جائے کہ سکیورٹی غیر تسلی بخش تھی تو پھر اس حملے میں جو پولیس اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں وہ کہاں سے آئے تھے۔

اس مقدمے میں سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار کا کہنا تھا کہ اگر بینظیر بھٹو کی سکیورٹی کے اقدامات بہتر کیے جاتے تو اُن کی جان کو بچایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اصل معاملہ تو باہر کی سکیورٹی کا ہے جس کے غیر تسلی بخش ہونے کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ملزموں کے وکیل نے گاڑی کے اندر کی سکیورٹی کا جو مسئلہ اُٹھایا ہے وہ اس مقدمے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت اٹھارہ دسمبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں