بلوچستان:ساحلی علاقوں میں ہڑتال

فائل فوٹو، کوئٹہ میں ہڑتال
Image caption ہڑتال کی وجہ سے ان شہروں میں ٹریفک معمول سے بہت کم تھی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے گوادر سے ایک طالب علم رہنما کے اغواء کے خلاف صوبے کے ساحلی علاقوں میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال ہوئی ہے۔

اتوار کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کے موقع پر گوادر اور تربت میں احتجاجی مظاہرے منعقد ہوئے جس میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ہے۔

بلوچ طلبہ تنظیم (بی ایس او آزاد) کی اپیل پر اتوار کو بلوچستان کے ساحلی علاقے مکران ڈویژن کے بڑے شہروں گوادر، پسنی اور جیونی میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال ہوئی ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کا کہنا ہے کہ ہڑتال کے موقع پر سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گیے تھے لیکن اس کے باوجود بعض نامعلوم افراد نے گوادر میں ایک بینک کو نذر آتش کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔

’ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں اضافہ‘

گوادرکے مقامی صحافی بہرام بلوچ کے مطابق ہڑتال کے موقع پر گوادر اور تربت میں بی ایس اور بی ایم کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں جس میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ہے۔

مظاہرین نے حکومت سے بلوچ طالب علم کامریڈ قیوم بلوچ کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے جنہیں سنیچر کو بعض نامعلوم مسلح افراد نے گوادر سے اغواء کیا تھا۔

بی ایس او اور قیوم بلوچ کے والدین نے اغواء کی ذمہ داری فرنٹیئرکور پر عائد کی ہے لیکن سنیچر کو کوئٹہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انسپیکٹر جنرل فرنٹیئر کور بلوچستان میجر جنرل عبید اللہ خان نے اس طر ح کے واقعات میں ایف سی کے ملوث ہونے سے مکمل طور پر انکار کیا ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ جو بھی شخص کسی جرم میں ملوث ہوگا اس کی گرفتاری مقامی پولیس کے تعاون سے عمل میں لائی جائے گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ چار ماہ میں گوادر سے گیارہ افراد اغواء ہوئے ہیں جس میں گذشتہ ہفتے مقامی صحافی اور بی این ایم کے کارکن لالہ حمید کی لاش ملی تھی۔ اس کے علاوہ عید الاضحیٰ کے بعد کوئٹہ اور صوبے کے مختلف علاقوں سے بیس سے زیادہ لاپتہ بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں۔

بلوچ قوم پرستوں کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ پانچ ماہ میں بلوچستان کے حصوں سے اب تک پچپن افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں جن میں سے چالیس کےقریب کی شناخت ہو چکی ہے اور ان میں سے اکثریت کا تعلق لاپتہ ہونے والے بلوچ نوجوانوں کی ہے۔

اگرچہ بلوچ قوم پرستوں اور صوبائی حکومت کے کئی ارکان کی جانب سے ان واقعات کی پرزور مذمت ہو چکی ہے لیکن آج تک یہ واضع نہیں ہوسکا ان ہلاکتوں کے پس پردہ کون سے عوامل کارفرما ہیں۔

اسی بارے میں