پاکستان میں ٹی بی کا جامع سروے ہوگا

پاکستان امریکی امداد سے ملک میں گزشتہ دو عشروں سے زیادہ کے عرصے کے بعد تپِ دق سے متعلق پہلے جامع سروے کا اہتمام کر رہا ہے۔ یہ جائزہ اس بیماری سے متعلق درست صورتحال سامنے لائےگا اور شعبۂ صحت کے اہلکاروں کو ٹی بی کے خاتمہ کے لیے مناسب حکمتِ عملی تیار کرنے کے لیے ضروری معلومات مہیا کرے گا۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری ایک بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ یہ اب تک کے کیے جانے والی تمام جائزوں سے بڑا سروے ہوگا۔ ملک میں پچانوے مقامات پر ڈیڑھ لاکھ مرد، عورتوں اور بچوں کا معائنہ کرکے ان کے ٹیسٹ لیے جائیں گے۔ ان نتائج سے منتظمین کے خیال میں پاکستان میں ٹی بی کے خلاف جامع اور مؤثر مہم چلانے کے لیے ضروری معلومات مہیا ہوں گی۔

اس منصوبے کا افتتاح اسلام آباد میں منعقد ایک تقریب میں کیا گیا جس میں امریکی نائب چیف ڈّی مشن سٹیفن اینگلیکن اور وفاقی وزیرِ صحت مخدوم شہاب الدین نے شرکت کی۔

وزیرِصحت کا کہنا تھا کہ ان کی وزارت اس سروے پر بروقت عمل درآمد اور اس کی تکمیل کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔’ہم مل کر حیران کن نتائج حاصل کرسکتے ہیں‘۔

ڈچ ٹیوبر کلوسس فاونڈیشن، امریکی امدادی ادارے یو ایس ایڈ کی جانب سے فراہم کی جانے والی ساڑھے چار ملین ڈالر امداد سے یہ سروے مکمل کرے گی۔ اس منصوبے کے دیگر اشتراک کاروں میں عالمی ادارۂ صحت، ٹی بی اور پھیپھڑوں کی بیماری کے خلاف سرگرم عالمی یونین مینجمنٹ سائنسز فار ہیلتھ شامل ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پاکستان میں ہر سال تپِ دق کے چار لاکھ سے زائد کیس رپورٹ ہوتے ہیں جن میں سے تیرہ ہزار کیسوں میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے ذریعے کیے جانے والے علاج کا کوئی اثر نہیں ہوتا ہے۔ پاکستان ٹی بی سے متاثر ہونے والے بائیس ممالک میں آٹھویں اور ان ستائیس ریاستوں میں چھٹے نمبر پر ہے جہاں اس بیماری کے مریضوں پر ادویات کا استعمال کارگر نہیں رہتا ہے۔