فضل الرحمٰن کی جمعیت حکومت سے الگ

Image caption ’ہماری جماعت پیپلز پارٹی کی مفاہمتی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمراں اتحاد میں شامل ہوئی تھی لیکن جو وعدے کیے گئے تھے وہ پورے نہیں ہوئے‘

حکمراں اتحاد میں شامل جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن گروپ) نے اپنی جماعت کے وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی اعظم سواتی کے کابینہ سے فارغ ہونے کے بعد حکومت سے علحیدگی کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان فضل الرحمٰن نے اپنی جماعت کے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ فضل الرحمٰن کشمیر پر پارلیمان کی مشترکہ کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں۔

جے یو آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت کے دیگر دو وزراء منگل کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیں گے۔ ان دو وزراء میں فضل الرحمن کے بھائی عطا الرحمٰن اور رحمت اللہ کاکٹر شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِاعظم نے اعظم سواتی کو عہدے سے ہٹاتے وقت ’مجھے‘ اعتماد میں نہیں لیا۔

فضل الرحمٰن نے کہا کہ اُن کی جماعت، پیپلز پارٹی کی مفاہمتی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمراں اتحاد میں شامل ہوئی تھی لیکن اُن کے ساتھ جو وعدے کیے گئے تھے وہ پورے نہیں ہوئے۔

اسلام آباد میں نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق کشمیر کے بارے میں پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ شدت پسندی کے خلاف جنگ میں امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کی مدد کے حوالے سے جو فیصلہ کیا گیا تھا اُس پر بھی اُن کی جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

اُنہوں نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر اعظم سواتی کو محض اس وجہ سے اُن کے عہدے سے ہٹایا گیا کہ اُنہوں نے حج انتظامات میں ’بدعنوانی‘ کے معاملے پر سپریم کورٹ کی معاونت کی تھی کیونکہ دوسرے برطرف کیے جانے والے مذہبی امور کے وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔

اُنہوں نے الزام لگایا کہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر توہین رسالت کی مبینہ ’مرتکب‘ خاتون کی حمایت کر رہے ہیں اور بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہوئی۔ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی شیری رحمان نے توہین رسالت کے بل میں ترمیم کے لیے بھی ایک بل بھی پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اُن کی جماعت سے بات نہیں کی۔

ایک سوال کے جواب میں فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں اگر ریفارمڈ جنرل سیلز ٹیکس لایا گیا تو اُن کی جماعت اس کی مخالفت کرے گی۔

اسی بارے میں