مہمند: حملہ، پانچ افراد ہلاک

فائل فوٹو/ مہمند
Image caption مہمند کے قبائلی علاقے میں طالبان سرگرم ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی اور پشاور میں حکام کے مطابق تین مختلف واقعات میں سکیورٹی فورسز کے دو اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔

مہمند ایجنسی میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی صُبح مہمند ایجنسی کے صدر مقام غلنئی سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور شمال مشرق کی جانب تحصیل انبار کے علاقے شاتے کنڈاؤ میں سکیورٹی فورسز کے ایک چیک پوسٹ پر نامعلوم شدت پسندوں نے راکٹوں اور خود کار ہھتیاروں سے حملہ کیا ہے۔

اس حملے میں سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے میں چیک پوسٹ کو معمولی نقصان پہنچا ہے لیکن اس کے قریب ہی ایک مورچہ تباہ ہوگیا ہے۔

اہلکار کے مطابق اس واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے بھی جوابی کارروائی کی ہے جس میں توپخانے کو بھی استعمال کیا گیا لیکن فوری طور پر کسی شدت پسند کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

ادھر پشاور کے مضافاتی علاقے بڈہ بیر میں پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے ایک زیارت گاہ میں تین افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

پولیس اہلکار عبدالستار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا ہے کہ منگل کی علی الصُبح بڈہ بیر میں واقع غازی بابا کی زیارت گاہ کی دیکھ بال کرنے والے چار ملنگوں یعنی مجاوروں پر نامعلوم افرادنے حملہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ افراد مزار کے اندار ہی موجود تھے اور حملے میں تین ملنگ ہلاک جبکہ ایک شدید زخمی ہوگیا ہے۔ اہلکار کے مطابق نامعلوم افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

دریں اثناء پشاور کے علاقے چارسدہ روڈ پر ناگمان میں پولیس موبائل گاڑی کے قریب ایک بارودی سرنگ کے دھماکہ میں ایک راہ گیر خاتون زخمی ہوگئی ہیں۔ پولیس کے مطابق دھماکے میں پولیس کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ دھماکے میں تمام پولیس اہلکار محفوظ رہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی۔

اسی بارے میں