توہینِ رسالت ایکٹ میں ترمیم پر ’وارننگ‘

گورنر پنجاب کی آسیہ بی بی سی ملاقات
Image caption مذہبی جماعتوں نے اس ماہ کی چھبیس تاریخ سے سلسلہ وار احتجاج کا بھی اعلان کیا ہے

ملک کی تمام مذہبی جماعتوں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر توہینِ رسالت ایکٹ میں ترمیم کی گئی تو اس کی مزاحمت کی جائے گی اور یہ عمل کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں بدھ کو تحفظِ ناموسِ رسالت کانفرنس ہوئی جس میں جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان، جماعت اسلامی کے سربراہ منور حسن، جماعت کے سابق امیر قاضی حسین احمد، اور جمعیت علمائے اسلام کے اپنے دھڑے کے سربراہ سمیع الحق سمیت بیشتر مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

کانفرنس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ تحفظِ ناموسِ رسالت کے حق میں چوبیس دسمبر کو ملک بھر کی مساجد سے احتجاجی جلوس نکالیں جائیں، اکتیس دسمبر کو ہڑتال ہوگی اور نو جنوری کو کراچی میں ایک بڑا جلسہ منقعد کیا جائے گا۔

نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق اس کانفرنس میں پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی جنھوں نے آسیہ بی بی سے ملاقات کی تھی اور ان کی سزا معاف کرنے کےلیے صدرِ مملکت سے درخواست کرنے کا وعدہ کیا تھا۔آسیہ بی بی کو پاکستان کی ایک عدالت نے توہینِ رسالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزا سنائی تھی۔

جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے توہینِ رسالت قانون میں کسی بھی قسم کی ترمیم کی تو اس کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس کے خلاف احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔

فضل الرحمان نے بین الاقوامی برادری سے کہا کہ وہ پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرے اور توہینِ رسالت قانون میں ترمیم کے حوالے سے پاکستان پر دباؤ نہ ڈالے۔

جاعتِ اسلامی کے سربراہ منور حسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ توہینِ رسالت ایکٹ میں کسی بھی قسم کی ترمیم کو ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اہلِ تشیع کے رہنماء ساجد نقوی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام مذہبی جماعتوں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے کہ توہینِ رسالت قانون کا غلط استعمال نہ ہو کیونکہ ماضی میں کچھ ایسی خبریں ملی تھیں کہ کچھ عناصر نے اس قانون کو غلط استعمال کیا تھا۔

اس کانفرنس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں توہینِ رسالت قانون کے تحت نو سو چونسٹھ مقدمات درج ہوئے جن میں سے مسلمانوں کے خلاف چار سو اناسی، احمدیوں کے خلاف تین سو چالیس، عیسائیوں کے خلاف ایک سو انیس اور ہندؤں کے خلاف ایک سو بارہ مقدمات درج ہوئے۔

اسی بارے میں