’ پاکستان صحافیوں کے لیے خطرناک جگہ‘

Image caption سی پی جے کے مطابق رواں سال کے دوران پاکستان میں ہونے والے خودکش حملے مقامی پریس کے لیے قہر بنے رہے

صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم ’سی پی جے‘نے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے خود کش حملوں کی وجہ سے پاکستان سال دو ہزار دس میں صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک ملک بن گیا ہے۔

سی پی جے یعنی کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اس سال دنیا بھر میں مجموعی طور پر بیالیس صحافی ہلاک ہوئے جن میں سب سے زیادہ اموات پاکستان میں رونما ہوئیں اور اس لحاظ سے عراق دوسرے نمبر پر آتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ زیادہ تر صحافیوں کو قتل کیا گیا لیکن پاکستان، افغانستان، صومالیہ اور تھائی لینڈ میں زیادہ تر صحافی رپورٹنگ کے دوران خودکش حملوں اور گولیوں کی زد میں آ کر ہلاک ہوئے ہیں۔

’حملوں کی زد میں صحافی‘

سی پی جے کے مطابق صرف سال دو ہزار دس میں اب تک پاکستان میں میڈیا کے آٹھ کارکنان اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاک ہوئے ہیں جو دنیا بھر میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کا ایک نمایاں حصہ ہے۔

Image caption پاکستان میں صحافی تشدد اور ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کرتے رہتے ہیں

تنظیم کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ہلاک ہونے والے آٹھ میں چھ صحافی شدت پسندوں کے خودکش حملوں یا دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

تنظیم کے مطابق اپریل کے صرف ایک دن میں نجی ٹی وی چینل سماء کے کیمرہ مین ملک عارف کوئٹہ میں بم دھماکے اور نامہ نگار عظمت علی بنگش اورکزئی ایجنسی کے نزدیک پناہ گزینوں کے ایک کیمپ پر ہونے والے ایک بم حملے میں ہلاک ہوئے۔ اسی طرح رواں ماہ دسمبر میں مہمند ایجنسی میں ایک خودکش حملے میں دو صحافی ہلاک ہوئے۔

تنظیم کے مطابق رواں سال کے دوران پاکستان میں ہونے والے خودکش حملے مقامی پریس کے لیے قہر بنے رہے۔ان حملوں میں دو درجن سے زائد صحافی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

تنظیم کے سربراہ جوئل سمن نے کہا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ملک میں تسلسل سے جاری اس تشدد کی علامت ہے جس نے ملک کو جکڑ رکھا ہے اور زیادہ تر تشدد افغانستان سے پاکستان میں پھیل رہا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ’ پاکستان میں کئی سالوں سے دہشت گرد صحافیوں کو قتل اور حکومت اغوا کرتی رہی ہے۔ لیکن خودکش حملوں میں اضافے نے صحافی کو اپنے فرائص کی انجام دہی کے دوران خطرے میں ڈال دیا ہے، صحافیوں کو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کسی سیاسی ریلی، احتجاجی مظاہرے یا کسی بڑے عوامی اجتماع کی کوریج کرنا پڑتی ہے۔ یہ بڑی پریشان کن اور غیر مستحکم صورتحال ہے۔‘

صحافیوں کی ہلاکت کے حوالے سے دوسرے نمبر پر عراق ہے جہاں رواں سال چار صحافی قتل ہوئے ہیں۔ عراق میں گزشتہ سال بھی چار صحافی ہلاک ہوئے تھے جب کہ سال دو ہزار چار سے دو ہزار سات تک ہر سال بیس صحافی ہلاک ہوتے تھے۔

سی پی جے کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں بہتر صحافی ہلاک ہوئے تھے جبکہ تنظیم رواں سال اٹھائیس ہلاکتوں کا جائزہ لے رہی کہ آیا وہ فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔

تنظیم نے اگلے سال جنوری میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کی مکمل فہرست جاری کرنی ہے۔

دوسری طرف انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے ایک بیان میں بلوچستان کے ضلع خضدار کے سینئر صحافی محمد خان ساسولی کے قتل کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کرتے کہا ہے کہ بلوچستان صحافیوں کے لیے بدنام زمانہ اور خطرناک جگہ بن گئی ہے جہاں صحافیوں کے قتل کے واقعات نے دنیا کے کئی ملکوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

تنظیم کی ایشیاء پیسیفک ریجن کی ڈائریکٹر جیکویلن پارک کا کہنا ہے کہ سب سے سے زیادہ تشویشناک بات ان واقعات پر بلوچستان کے سرکاری حکام کی خاموشی ہے جو صحافیوں کے قتل کی تحقیقات اور ملوث افراد کو سزا دلانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کرتے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے خضدار پریس کلب کے سابق صدر فیض محمد ساسولی کو بھی انہی حالات میں ستائیس جون میں قتل کیا گیا تھا جبکہ اٹھارہ نومبر کو گوادر سے اغواء ہونے والے صحافی لالہ حمید کی تشدد زدہ لاش ملی تھی جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں مبینہ طور پر سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا۔

اسی بارے میں