اتحادیوں کی تلاش

اے پی سی ۔ فائل فوٹو
Image caption مولانا فضل الرحمان کی جماعت کی حکومت سے علیحدگی کے بعد پیپلز پارٹی کو دوسرے اتحدیوں کی ضرورت ہے

پاکستان میں پیپلز پارٹی کی سربراہی میں قائم حکمران اتحاد سے جمیعت علماء اسلام (ف) کی علیحدگی اور متحدہ قومی موومنٹ کی ناراضگی کے بعد اقتداری کھیل میں مسلم لیگ (ق) کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

صدرِ پاکستان اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے پہلے تو مسلم لیگ (ق) کو قاتل لیگ قرار دیا تھا لیکن آج کل ان کے مسلم لیگ (ق) کے ساتھ تواتر سے رابطہ رہتا ہے۔

سیاسی حلقوں میں مولانا فضل الرحمٰن اور متحدہ قومی موومنٹ کے ماضی کی سیاسی قلابازیوں کے کردار کو مد نظر رکھتے ہوئے کئی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ دونوں جماعتیں اقتدار کے ’سویمنگ پول‘ کو چھوڑنے والی نہیں ہیں۔ ہاں البتہ اگر انہیں یقین ہوگیا کہ کوئی تبدیلی ناگزیر ہے تو پھر وہ اقتداری کشتی سے بیچ سمندر میں چھلانگ لگانے کے بھی ماہر ہیں۔

قومی اسمبلی: پارٹی پوزیشن دیکھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے

فرض کریں کہ اگر جے یو آئی کے بعد ایم کیو ایم بھی حکومت سے علحدہ ہوتی ہے تو پھر پیپلز پارٹی کو مسلم لیگ (ق) کے ساتھ بات کرنی ہوگی۔ کیونکہ تین سو بیالیس اراکین کے ایوان میں سادہ اکثریت کے لیے کم از کم ایک سو بہتر اراکین کی حمایت درکار ہوگی۔ ایسے میں پیپلز پارٹی (ایک سو ستائیس ) عوامی نینشل پارٹی (تیرہ) اور فاٹا سمیت آزاد اراکین (پندرہ )، مسلم لیگ (ف) پانچ، نیشنل پیپیپلز پارٹی، پیپلز پارٹی (شیرپاؤ) اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے ایک ایک رکن کی حمایت کے ساتھ حکومتی اتحاد کو ایک سو تریسٹھ اراکین کی حمایت حاصل ہوگی اور انہیں اپنی حکومت بچانے کے لیے نو اراکین کی مزید حمایت درکار ہوگی۔

اگر مسلم لیگ (ق) جس کے الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق تقریباً پچاس اراکین قومی اسمبلی ہیں وہ حکومت سے نہیں بھی ملتے تو تیسرا آپشن مسلم لیگ (ق) کے اندر فارورڈ بلاک قائم کرنے کا ہوگا۔ فیصل صالح حیات کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی پیٹریاٹ بنانے والے سردار بہادر خان سیہڑ اور دیگر کے علاوہ ریاض حسین پیرزادہ اور ریاض فتیانہ سمیت مسلم لیگ (ق) کے کم از کم بیس افراد کی حمایت حاصل کرنا پیپلز پارٹی کے لیے دشوار نہیں ہوگا۔

مسلم لیگ (ق) کے اندر فارورڈ بلاک بننے یا اس بارے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے اندرون خانہ کیے گئے ’ہوم ورک‘ سے چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الہیٰ غافل نہیں ہیں۔ اس لیے ان کے لیے یہ بات زیادہ مناسب ہوگی کہ وہ پیپلز پارٹی کو اپنا کندھا پیش کریں، کیونکہ ان کے مستقبل کے سیاسی مفادات مسلم لیگ (ن) سے زیادہ پیپلز پارٹی سے ہی وابسطہ ہیں۔

اس سارے کھیل میں ایک اور نکتہ بھی سمجھنے کا ہے کہ مسلم لیگ (ن) موجودہ حالات میں پیپلز پارٹی کی حکومت گرا کر ایوان کے اندر سے تبدیلی لا کر خود حکومت بنانا نہیں چاہتی۔ جس کی بڑی وجہ اندرونی ملکی حالات اور بیرونی صورتحال ہے جس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے افراتفری، بلوچستان میں بغاوت، بد ترین اقتصادی صورتحال اور مہنگائی کے علاوہ کمزور ترین اتحادی حکومت کا قیام اور امریکہ اور فوج کے ساتھ ورکنگ رلیشنشپ بھی شامل ہے۔

ایسے میں مسلم لیگ (ن) کی اولین ترجیح ہوگی کہ دو ڈھائی برس کے دوران جو مشکل صورتحال ہے اس میں پیپلز پارٹی مزید خوار ہو اور وہ انہیں مدت مکمل کرانے کے کریڈٹ کے ساتھ نئے عام انتخابات میں اتریں تاکہ مسلم لیگ (ن) کو دیگر جماعتوں پر کم از کم انحصار کرنا پڑے۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جمیعت علماء اسلام یا متحدہ قومی موومنٹ بھلا کیوں حکومت سے علیحدہ ہوکر ’گناہ بے لذت‘ کریں۔

جہاں تک بات ہے ریفارمڈ جنرل سیلز ٹیکس (آر جی ایس ٹی) کے نفاذ کی تو اس کے لیے مسلم لیگ (ن) کے اعتراضات دور کیے جاسکتے ہیں۔ کیونکہ عوامی نیشنل پارٹی اور فاٹا والے اراکین پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ حکومت کو ’آر جی ایس ٹی‘ پر ووٹ دیں گے۔

وزیر خزانہ حفیظ شیخ میاں نواز شریف سے مل چکے ہیں لیکن وہ تاحال اس معاملے پر راضی نہیں ہوئے۔ لیکن اب اسحاق ڈار کی معرفت ٹیکس حکام میاں نواز شریف کے خدشات دور کرنے کے لیے مجوزہ ترمیمی مسودہ تیار کر رہے ہیں اور محرم کے بعد انہیں بریفنگ دیں گے۔ ظاہر ہے کہ مسلم لیگ (ن) جو خود کو مستقبل کی حکومتی جماعت تصور کرتی ہے انہیں بھی ادراک ہے کہ ‘ کنگال پاکستان’ انہیں بھی نہیں چاہیے۔

جس طرح سیاسی جماعتیں ’آر جی ایس ٹی‘ کی مخالفت کر رہی ہیں اس سے تو بظاہر لگتا ہے کہ اس کی منظوری بہت مشکل ہوگی۔ لیکن صدر آصف علی زرداری کہتے رہے ہیں کہ ’سیاست ناممکن کو ممکن بنانے کا فن ہے‘ اور کوئی ایسا مسئلہ نہیں جسے حل نہ کیا جاسکے۔ چین کے وزیراعظم کے اعزاز میں جو صدرِ پاکستان عشائیہ دے رہے ہیں اس میں میاں نواز شریف سمیت تمام سیاسی اور مذہبی رہنما شرکت کریں گے اور ہوسکتا ہے کہ یہ موقع حکومت کے لیے ’رحمت‘ ثابت ہو۔

اسی بارے میں