زرداری سے گفتگو کا امکان نہیں: نواز

Image caption ’حکومت اگر کرپشن روکنے میں سنجیدہ ہوتی تو آج یہ نوبت نہ آتی، نہ تو کوئی کرپٹ وزیر کابینہ میں ہوتا اور نہ اسے نکالنے کی ضرورت پڑتی‘

پاکستان مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ چینی وزیر اعظم کی آمد کے موقع پر ان کی صدر زرداری سے کسی الگ سے سیاسی ایجنڈے پر گفتگو کا کوئی امکان نہیں ہے۔

لیکن نواز شریف نے کہا کہ وہ کسی بھی غیر آئینی اور غیر قانونی تبدیلی کے خلاف ہیں۔ یہ بات انہوں نے لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

’نواز شریف خطرناک، زرداری بدعنوان‘

سابق وزیر اعظم نے ایک مسلم لیگی کارکن توفیق بٹ کے گھر جاکر ان کے بھائی کے انتقال پر تعزیت کی۔انہوں نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غیر آئینی اور غیر قانونی کام مارشل لاؤں میں کیے جاتے ہیں لیکن اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

نامہ نگار علی سلمان کے مطابق حکمران پیپلز پارٹی سے اس کی اتحادی جماعتوں کے ناراضی کے حوالے سے مسلم لیگ نون کے کسی سیاسی جوڑ توڑ میں شامل نہ ہونے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ کسی وقتی لہر کے تحت فیصلے نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک نظریے کے تحت چل رہے ہیں اور اس نظریے پر کاربند رہیں گے۔البتہ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ مہنگائی بے روزگاری اورکرپشن روکنے کے اقدامات کرے اور اس ایجنڈے پر عمل کرے جس کا ذکر انہوں نے صدر آصف زرداری کو لکھے اپنے خط میں کیا تھا۔

نواز شریف نے گذشتہ مہینے اپنے اس خط میں حکومت سے مہنگائی، بےروزگاری کرپشن اور لوڈ شیڈنگ جیسے مسائل کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔نواز شریف نے کہا کہ انہیں خط کا جزوی جواب ملا ہے اور وہ مکمل اور عملی جواب کے اب تک منتظر ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اس ایجنڈے پر عملدرآمد کریں تو کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔

نواز شریف نے کہا کہ ’حکومت اگر کرپشن روکنے میں سنجیدہ ہوتی تو آج یہ نوبت نہ آتی، نہ تو کوئی کرپٹ وزیر کابینہ میں ہوتا اور نہ اسے نکالنے کی ضرورت پڑتی‘۔

جب سابق وزیرِ اعظم سے پوچھا گیا کہ کیا چین کے وزیر اعظم کے اعزاز میں دیے جانے والے عشائیے میں ان کا صدر آصف زرادی سے کسی سیاسی ایجنڈے پر تبادلہ خیال کا امکان ہے تو انھوں نے کہا کہ چین سے پاکستان کے دیرینہ تعلقات ہیں اور اس عشائیے میں ان کی چین کے وزیر اعظم سے الگ سے ون ٹو ون ملاقات بھی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ صدر زرداری سے کوئی سیاسی ایجنڈے پر ملاقات کا کوئی امکان نہیں ہے۔

نوازشریف نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی بجائے الٹا گیس کی لوڈ شیڈنگ شروع ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کو گیس کی بندش کے تباہ کن اثرات ہوں گے یہ صرف پنجاب حکومت کا نقصان نہیں ہوگا بلکہ خود وفاقی حکومت کو بھی نقصان پہنچے گا۔

اسی بارے میں