’ سرکاری سکولوں کی تباہی کا سلسلہ جاری‘

فائل فوٹو، سکول تباہ
Image caption گزشتہ چند ماہ سے سرکاری سکولوں پر حملوں میں شدت آئی ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں سرکاری سکولوں پر حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور تازہ واقعات میں دو مزید سکولوں کو تباہ کردیا گیا ہے۔

پشاور کے مضافاتی علاقے ادیزئی متنی میں بدھ اور جمعرات کی درمیان شب مسلح افراد نے لڑکیوں کے ایک اور پرائمری سکول کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق سکول زیر تعمیر تھا جب کہ دھماکے سے تمام کمرے تباہ ہوگئے ہیں۔

اس طرح خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں بھی مسلح شدت پسندوں نے لڑکیوں کے ایک مڈل سکول کو دھماکوں سے تباہ کر دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملے سے سکول کے چند کمرے مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔

ُادھر خیبر ایجنسی کے علاقے لنڈی کوتل میں مقامی انتظامیہ کے مطابق سکول پر حملے کی ایک کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ قبائلی علاقوں اور صوبہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ چند مہینوں سے سکولوں پر حملوں میں شدت آئی ہے تاہم ابھی تک حکومت کی طرف سے ان حملوں کو روکنے کے لیے کسی قسم کے اقدامات دیکھنے کو نہیں مل رہے۔

دریں اثناء پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی گولہ باری میں دو بچوں سمیت تین عام شہریوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ خیبر ایجنسی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ سکیورٹی فورسز نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب باڑہ بازار سے تقریباً پانچ کلومیٹر دور ملک دین خیل کے علاقے میں مشتبہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر شدید گولہ باری کی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ توپ کے کچھ گولے عام شہریوں کے مکانات پر گرنے سے تین افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔

قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں پچھلے چند سالوں سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف جاری سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ بالخصوص خیبر ایجنسی میں ایسے واقعات بھی ہوئے جن میں ایک فضائی کارروائی میں ستر کے قریب عام شہری مارے گئے تھے تاہم کچھ عرصہ سے ان واقعات میں کسی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

اسی بارے میں