’سی آئی اے کے اعلیٰ اہلکار کی واپسی‘

Image caption پاکستان میں سی آئی کا مشن اور دہشت گردوں کے خلاف سخت گیر جنگ بلا تخفیف جاری رہے گی: امریکی اہلکار

امریکی انٹیلی جنس حکام نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں تعینات سی آئی اے کے اعلیٰ ترین اہلکار کو ان کی زندگی کو لاحق خطرات کی بناء پر واپس بلا لیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ سی آئی اے نے پاکستان میں تعینات اپنے اعلیٰ ترین اہلکار کی زندگی کو لاحق مخصوص خطرات کے بارے میں معلوم ہونے پر انھیں واپس بلا لیا ہے۔

امریکی انٹیلی جنس اہلکار نے بتایا کہ ’سی آئی اے کے اعلیٰ اہلکار کو واپس بلانے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ پاکستان میں ان کو دہشت گردی کے اس قدر سخت قسم کے خطرات تھے کہ کوئی قدم نہ اٹھانا خلاف عقل ہوتا۔‘

اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ ’پاکستان میں سی آئی اے کا مشن اور ایجنسی کی دہشت گردوں کے خلاف سخت گیر جنگ بلا تخفیف جاری رہے گی۔‘

سی آئی اے کی جانب سے ابھی تک اس حوالے سے کوئی باقاعدہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں سی آئی اے کے انچارج کا نام اس وقت سامنے آیا تھا جب گزشتہ ماہ انتیس نومبر کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرس کے دوران قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے ایک رہائشی نے ڈرون حملوں پر ان کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

کریم خان نے ڈرون حملے میں اپنے عزیزوں کی ہلاکت پر امریکہ کے خلاف پچاس کروڑ ڈالر کے ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا۔

Image caption کریم خان نے ڈرون حملے میں اپنے عزیزوں کی ہلاکت پر امریکہ کے خلاف پچاس کروڑ ڈالر کے ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا

کریم خان کے مطابق انھوں نے امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس، سی آئی اے کے سربراہ لیون ایڈورڈ پنیٹا اور اسلام آباد میں سی آئی اے کے انچارج جوناتھن بینکس کو قانونی نوٹس بھیجا ہے۔

رواں ماہ دسمبر میں کریم خان نے اپنے وکیل کے توسط سے اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ میں سی آئی اے کے اسلام آباد میں انچارج جوناتھن بینکس کے خلاف ایک درخواست بھی دائر کی تھی۔

درخواست میں الزام عائد گیا تھا کہ جوناتھن بینکس پورے ملک خاص طور پر شمالی وزیرستان میں ایک جاسوسی کا خفیہ آپریشن چلا رہے ہیں۔ درخواست گزار نے جوناتھن کا نام ایگزٹ کنڑول لسٹ میں ڈالنے کی استدعا کی تھی۔

پولیس نے درخواست قانونی رائے کے لیے متعلقہ شعبے کو بھیج دی تھی۔

دوسری طرف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی جاسوسی اہلکاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان میں مبینہ طور امریکی جاسوسی ایجنسی سی آئی اے یا سینٹرل انیٹنیلجنس ایجنسی کے سربراہ کا نام افشا کیے جانے کے پیچھے مشتبہ طور پر پاکستانی جاسوسی ادارے آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے۔

اخبار نے امریکی جاسوسی اداروں کے حکام کےحوالےسے یہ بھی قیاس کیا ہے کہ ممکنہ طور پاکستان میں امریکی سی آئي کے کے عملداروں کے خلاف فوجداری فریاد نیویارک کی ایک وفاقی عدالت میں آئی ایس آئی کیخلاف دائر مقدمے کے بدلے میں کی گئی۔

نیویارک میں مشہور وکیل جم کرائنڈلر نے بی بی سی اردو کے حسن مجتبیٰ سے اپنی بات چیت میں اسکی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے بروکیلن کی وفاقی عدالت میں نیویارک سے تعلق رکھنے والے ممبئي میں نومبر انیس سو آٹھ میں ممبئی میں دہشتگردانہ حملوں میں ہلاک ہونیوالے یہودی ریبائي سمیت ہلاک ہونیوالے چار افراد کے اہلیان خانہ کیطرف سے دائر مقدمے میں پاکستان کے جاسوسی ادارے ائی ایس آئی اور اسکے موجودہ سربراہ جنرل شجاع پاشا کو فریق بنایا ہے۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نومبر دو ہزار آٹھ کو ممبئي میں دہشتگردی کا واقعہ جس میں امریکی شہریوں کی بھی ہلاکتیں ہوئي تھیں خود اپنے خلاف گواہی آپ ہے اور اس ضمن میں وہ دوران مقدمہ شواہد پیش کریں گے کہ پاکستان کا جاسوسی ادارہ آئی آیس آئی اس میں مبینہ طور ملوث تنظیم لشکر طیبہ کو مٹریل سپورٹ یا مادی مدد فراہم کرتا رہا ہے۔

اسی بارے میں