حج انتظامات میں سولہ لاکھ ریال کی کرپشن

Image caption بدعنوانی کی پوری رپورٹ جلد ایوان میں پیش کی جائے گی

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ حج انتظامات میں سولہ لاکھ سعودی ریال کی کرپشن ہوئی اور یہ رقم عازمینِ حج کی رہائش کےلیے دی گئی تھی۔

یہ بات انہوں نے قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے رہنما چودھری نثار علی خان کے خطاب کے بعد جواب دیتے ہوئے کہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حج کے انتظامات میں بدعنوانی کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی اور جو بھی ملوث ہوا اسےگرفتار کرنے سےگریز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کر رہا ہے اور حج کے انتظامات میں ہوئی بدعنوانی کی پوری رپورٹ جلد ایوان میں پیش کی جائے گی۔

یاد رہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے دسمبر کے پہلے ہفتے میں حج انتظامات میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی سے متعلق میڈیا پر آنے والی خبروں پر از خودنوٹس لیتے ہوئے ایک پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔

عدالت نے اس ضمن میں وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی، وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی اعظم سواتی، قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے چیئرمین، سابق ڈائریکٹرجنرل حج راؤ شکیل اور دیگر حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اُنہیں طلب کیا تھا۔

از خود نوٹس میں سعودی شہزادے بندر بن خالد بن عبدالعزیزالسعود کے خط کو بھی بنیاد بنایا گیا تھا جو انہوں نے پاکستان کے چیف جسٹس کو لکھا تھا۔ اس خط میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے کہا ہے کہ حج کے دوران پینتیس ہزار پاکستانی حاجیوں کے لیے حرم سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر رہائش گاہیں ساڑھے تینتیس سو سعودی ریال میں دینے کے بارے میں کہا گیا تھا۔

خط میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ وزارت حج کے اعلیٰ حکام نے حرم سے ساڑھے تین کلومیٹر دور وہی رہائش گاہیں عازمین حج کے لیے 3600 ریال پر حاصل کی تھیں۔ سعودی شہزادے نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کے پاس اس بدعنوانی کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔

سپریم کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کو حکم دیا ہے کہ حج انتظامات میں مبینہ بدعنوانی کے سکینڈل میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کیا جائے۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی جنہیں عدالت نے اس از خودنوٹس کی سماعت میں طلب کیا تھا عدالت کو بتایا تھا کہ اُن کی وزارت میں بدعنوانی کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا لیکن وہ ثابت کریں گے کہ اُن کی وزارت میں کرپشن گُزشتہ سالوں کی نسبت بہت کم ہے۔

اس دوران حکمراں اتحاد میں شامل جمعیت علماء اسلام (فضل الرحمن گروپ) سے تعلق رکھنے والی وفاقی وزیر اعظم سواتی نے پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی پرحج انتظامات میں بدعنوانی کا الزام عائد کیے تھے۔

اس تنازعہ کے بعد وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ان دونوں وفاقی وزراء کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا تھا۔

اسی بارے میں