پاکستان: شراب کی قیمتوں میں اضافہ

پاکستان میں مئے نوشوں کے لیے موسم سرما اپنی آمد کے ساتھ یہ خبر بھی لایا کہ اب شراب پرانی قیمتوں پر نہیں ملے گی۔ شراب کشید کرنے والے اداروں نے اس کی وجہ خام مال کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ وائین شاپ مالکان اس اضافے کی وجہ ٹیکس اور ٹرانسپورٹ اخراجات بتاتے ہیں۔

پاکستان میں شراب کے تین کارخانے ہیں جو مری بروری، کوئٹہ ڈسٹلری اور انڈس ڈسٹلری کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

برطانوی دور حکومت میں قائم ہونے والے کارخانے مری بروری میں بیئر، ووڈکا، وائن، جِن، رم اور نان الکوحل بیئر تیار کی جاتی ہے۔

مری بروری کے ترجمان میجر فصیح الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ چھ دسمبر سے سندھ کے لیے مختلف برانڈز کی قیمتوں میں چار سے چھ فیصد اضافہ کیا گیا ہے جس کی وجہ وہ خام مال کی قیمتوں میں اضافہ بتاتے ہیں۔

’بارلے جو، جو آسٹریلیا سے درآمد کیا جاتا ہے، اس کی پہلے ایک میٹرک ٹن کی قیمت دو سو اسی آسٹریلین ڈالر تھی جو اب چار سو بیس آسٹریلین ڈالر ہوگئی ہے، اس کے علاوہ دیگر اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے‘۔

میجر فصیح الرحمان کے مطابق ان کی کمپنی نے ہول سیلروں کو آگاہ کیا ہے کہ یہ قیمتیں وہ پانچ چھ مہینے پہلے بڑھانا چاہتے تھے مگر وہ اضافی اخراجات برداشت کرتے رہے اور اب مجبور ہوکر فی کاٹن سو سے ڈیڑھ سو روپے اضافہ کیا ہے۔

مری بروری کا کہنا ہے کہ ان کی مصنوعات ستر فیصد سندھ میں فروخت ہوتی ہیں، جس کی وجہ وہ یہاں دیگر صوبوں کے مقابلے میں غیر مسلموں کی آبادی زیادہ ہونے اور نرم پالیسی کو قرار دیتے ہیں۔

عیسائی برادری کا تہوار کرسمس اور نئے سال کی آمد قریب ہے، میجر فصیح الرحمان تصدیق کرتے ہیں کہ موسم سرما اور ان تہواروں پر شراب کی فروخت میں اضافہ ہو جاتا ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں حالیہ اضافے کا اس سے تعلق نہیں ہے۔

بقول ان کے تہواروں کے موقع پر وائن شاپ کے مالکان قیمتوں میں اضافہ کر دیتے ہیں کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ فروخت زیادہ ہے اور یوں ان کا منافع بڑھ جاتا ہے۔

کراچی کی وائن شاپس پر نئے نرخ لگا دیے گئے ہیں جن کے مطابق لندن ڈرائی جِن، لائین، واٹ ون کی ایک لیٹر بوتل کی قیمت پر ایک سو روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جو اب سات سو میں فروخت ہو رہی ہے، اسی طرح بیئر کی قیمتوں میں بھی بیس سے تیس روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

Image caption برطانوی دور حکومت میں قائم ہونے والے کارخانے مری بروری میں بیئر، ووڈکا، وائن، جِن، رم اور نان الکوحل بیئر تیار کی جاتی ہے

ایک وائن شاپ مالک کا کہنا تھا کہ ہول سیلر نے قیمتیں بڑھائیں جس کے باعث انہوں نے بھی اب نئے نرخ مقرر کیے ہیں۔

شہر کے مصروف علاقے میں کاروبار کرنے والے اس وائن شاپ مالک نے رازداری کی شرط پر بتایا کہ پولیس، ایکسائز اور صحافیوں کے حصے اتنے ہیں کہ ان کا منافع نہ ہونے کے برابر ہو جاتا ہے، اس لیے قیمت زیادہ وصول کی جاتی ہے۔

محکمہ ایکسائز کے مطابق شہر میں ساٹھ کے قریب وائن شاپس اور چھ ہول سیل ڈیلر ہیں، جہاں سے ایک اندازے کے مطابق ساڑھے چالیس لاکھ سے زیادہ کی شراب سالانہ فروخت ہوتی ہیں۔ لیٹر کی بوتل پر یہ محکمہ دو روپے ایکسائز ڈیوٹی وصول کرتا ہے۔

اس کے علاوہ کچھ بووٹ لیگر یا پھیری والے بھی ہیں جو کار یا موٹر سائیکل پر شراب پہنچاتے ہیں۔ زیادہ تر خریدار ان سے ٹیلیفون پر رابطہ رکھتے ہیں۔ جو لوگ وائن شاپ پر جانے سے کتراتے ہیں وہ ان کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔

سندھ میں پہلے وائن شاپ سے شراب کے حصول کے لیے پرمٹ لازمی سمجھا جاتا تھا مگر بعد میں یہ شرط ختم کر دی گئی۔ اب کوئی بھی اقلیتی شہری اپنا قومی شناختی کارڈ دکھا کر شراب حاصل کر سکتا ہے۔

شہر میں موجودہ ساٹھ وائن شاپس میں سے اسی فیصد کے مالک ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں، صرف چند دکاندار عیسائی کمیونٹی سے ہیں۔

ایک وائن شاپ کے باہر ایک مئے نوش سے جب پوچھا کہ ان قیمتوں کے بڑھنے سے کیا وہ شراب نوشی میں کمی کریں گے؟

تو انہوں نے مسکرا کر جواب دیا: ’شراب چیز ہی ایسی ہے کہ نہ چھوڑی جائے‘۔

اسی بارے میں