صدیق عیدو کی رہائی کا مطالبہ

Image caption بلوچستان میں لاپتہ افراد کے لواحقین اکثر مظاہرے کرتے رہتے ہیں

حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے بلوچستان کے شہر پسنی سے انسانی حقوق کے کارکن صدیق عیدو کے مبینہ سرکاری اہلکاروں کے ہاتھوں اغوا کے خلاف سخت تشویش ظاہر کی ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق صدیق عیدو اپنے بھائی کے ساتھ مقامی عدالت میں چلنے والے ایک مقدمے کی سماعت کے بعد گھر واپس جا رہے تھے تو مین گوادر روڈ پر پراڈو گاڑیوں میں سوار کچھ نامعلوم افراد نے انہیں روکا اور اغوا کر کے لے گئے۔

نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا دعویٰ ہے کہ کم سے کم چار پولیس اہلکار بھی ان ہی گاڑیوں میں موجود تھے اور انہوں نے دونوں بھائیوں کے ساتھ بدسلوکی بھی۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ صدیق عیدو کو اغوا کرنے والے افراد جن پراڈو گاڑیوں میں سوار تھے وہ زیادہ تر خفیہ اداروں کے اہلکار استعمال کرتے ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق صدیق عیدو کو ایک فوجداری مقدمے میں ملوث کیا گیا تھا اور عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔ تنظیم نے تشویش ظاہر کی ہے کہ صدیق عیدو کو سخت تشدد کا نشانا بنایا جائے گا اور ان کی زندگی کو خطرہ ہے۔

ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن ڈاکٹر مہدی حسن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صدیق عیدو کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور انسانی حقوق کے کارکنان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

یاد رہے کہ بلوچستان سے سینکڑوں افراد لاپتہ ہوئے ہیں جن کے بارے میں ان کے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ انہیں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے اغوا کیا ہے۔

اسی بارے میں