امتحانات رینجرز کی نگرانی میں

ملک کی سب سے بڑی جامعہ کراچی میں گزشتہ ایک ماہ سے تعلیمی اور امتحانی عمل تشدد کے مختلف واقعات کی وجہ سے تعطل کا شکار رہنے کے بعد اب جامعہ کی انتظامیہ نے امتحانات رینجرز کی نگرانی میں منعقد کروانے کا فیصلہ کیاہے۔

جامعہ کراچی کی افسر تعلقاتِ عامہ فرحین زہرا نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں امید ہے کہ اب بدھ تئیس دسمبر سے جامعہ کراچی میں امتحانی عمل دوبارہ شروع ہوجائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اساتذہ سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ نتائج کی تیاری میں جلدی کریں تاکہ پندرہ دن کے اندر نتائج کا اعلان ہوسکےاور انتظامیہ کی پوری کوشش ہے کہ نیا تعلیمی سال آٹھ جنوری سے شروع کردیا جائے تاکہ نئے آنے والے طلباء کا بھی نقصان نہ ہو۔

فرحین زہرا نےگزشتہ روزجامعہ کی انتظامیہ کی جانب سے رات گئے امتحانات کےانعقاد کے بارے میں متضاد خبریں جاری کرنے پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ جامعہ کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ صرف حتمی اور تصدیق شدہ خبر ہی میڈیا کو جاری کی جائے گی۔

گزشتہ رات جامعہ کی انتظامیہ کی جانب سے مقامی ٹی وی چینلز پر پہلے خبر نشر ہوئی کے کل امتحانات نہیں ہوں گے، تاہم کچھ دیر کے بعد کہا گیا کہ ہوں گے اور پھررات گئے ایک بار پھر اعلان کیا گیا کہ امتحانات نہیں ہوں گے۔

اس سے قبل منگل کو جامعہ کراچی کے کچھ غیر جانبدار طلباء نے کراچی پریس کلب کے باہر امتحانی عمل معطل رکھنے کے خلاف مظاہرہ کیا اور جامعہ کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ششماہی امتحانات میں مزید کوئی تاخیر نہ کی جائے اور فی الفور امتحانی عمل شروع کیا جائے تاکہ انہیں اگلے سال دوسرے اداروں میں داخلہ مل سکے۔

مظاہرین میں سے ایک طالبعلم رمیز احمد نے بی بی سی کوبتایا کہ جامعہ کی انتظامیہ نے حالات سے نمٹنے کا آسان حل یہ نکالا ہے کہ جامعہ ہی کو بند کردیا جائے، جبکہ ہمارا کہنا یہ ہے کہ جو افراد یا تنظیمیں ماحول خراب کررہی ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور طالبِ علموں کے تعلیمی سال کو ضائع ہونے سے بچایا جائےکیونکہ امتحانات اور نتائج میں تاخیر ہوئی توانہیں دوسرےتعلیمی اداروں میں داخلہ نہیں مل سکےگا۔

رمیز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب تک جامعہ کی جانب سےواضع طور پرامتحانات کی کوئی تاریخ نہیں دی گئی ہے۔

جامعہ کراچی میں ہرسال امتحانات کا آغاز نومبر کے وسط میں ہوتا ہے جو دسمبر کے آخرتک جاری رہتا ہے۔ اس سال نودسمبر کوجامعہ میں دو طلباء تنظیموں کاامتحانات میں نقل کروانے پرجھگڑا ہوا اور نوبت مارپیٹ تک پہنچ گئی جس کے دوران شعبہ سماجیات میں کے ایک لیکچرار دوست محمد برکت پر بھی کچھ طلباء نے تشدد کیا جس کے بعد کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی نے کیمپس میں سیکیورٹی صورتِ حال بہتر ہونے تک امتحانی عمل کا بائیکاٹ کردیا۔

جامعہ کراچی ٹیچرز سوسائٹی کے صدر عابد حسنین نے بی بی سی کو بتایا کہ دوست محمد برکت طلباء میں بیچ بچاؤ کرواتے ہوئے زخمی ہوئےاور انہیں تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔

تاہم ان کے بقول اس وقت جامعہ کی انتظامیہ کا جامعہ کےامورپرکنٹرول نہ ہونےکےبرابر ہےاورخود انتظامیہ بھی قائدے قانون کی پاسداری نہیں کررہی ہے اورکچھ افراد ایسےہیں جن کےپاس کئی انتظامی عہدے ہیں۔اگر کوئی شخص کسی شعبےکا سربراہ ہےاوراس کےساتھ ساتھ اس نےسیکیورٹی کا چارج بھی لےرکھا ہے تو کام کبھی ٹھیک نہیں چل سکتا۔

انہوں نے جنرل باڈی اجلاس میں امتحانات سے پہلے ہی یہ فیصلہ کیا تھا کہ اگر امتحانات کے دوران کوئی گڑبڑ ہوئی تو اساتذہ امتحانات نہیں لیں گے مگر اب وائس چانسلر کی یقین دہانی اور طلباء کے وسیع تر مفاد میں انہوں نے دوبارہ امتحانات لینے کا فیصلہ کیا ہے اب سارا دارومدار جامعہ کی انتظامیہ پر ہے۔

اسی بارے میں