انیسویں آئینی ترمیم کی منظوری

Image caption وزیراعظم گیلانی نے آئینی کمیٹی کے ارکان کو پاکستان کا اعلٰی ترین سول اعزاز دینے کا اعلان کیا

پاکستان کی قومی اسمبلی نے اعلٰی ججوں کی تقرری کے طریقۂ کار کے بارے میں انیسویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔

بدھ کو اسمبلی میں ترمیم کی شق وار منظوری کے بعد رائے شماری ہوئی تو ترمیم کے حق میں دو سو اٹھاون جبکہ مخالفت میں صرف ایک ووٹ ڈالا گیا۔

اسمبلی میں پیش کیے جانے سے قبل وفاقی کابینہ نے اپنے اجلاس میں اس ترمیم کی منظوری دی تھی۔

آئینی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی نے منگل کو اُنیسویں ترمیم کے حوالے سے اپنی سفارشات قومی اسمبلی میں پیش کی تھیں۔ ان سفارشات میں آئین کی چھ دفعات میں ترامیم کی سفارش کی گئی ہے اور یہ ترامیم اٹھارہویں آئینی ترمیم کی مختلف شقوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کی گئی ہیں۔

اعلی عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی سے متعلق آئین کی شق 175 اے میں ترمیم کی گئی ہے اور اس میں جوڈیشل کمیشن میں سپریم کورٹ کے دو سنیئر ججوں کی بجائے چار جج صاحبان کو شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس طرح اس ترمیم کے منظور ہونے کی صورت میں جوڈیشل کمیشن کے ارکان کی تعداد سات سے بڑھ کر نو ہوجائے گی۔

آئین کی شق 182 میں اعلی عدالتوں میں ایڈہاک ججوں کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس کا صوابدیدی اختیار واپس لینے اور یہ اختیارجوڈیشل کمیشن کو تفویض کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس ترمیم کی مخالفت میں ووٹ دینے والی پاکستان مسلم لیگ قاف کی رکن قومی اسمبلی کشمالہ طارق نے کہا کہ اُنیسویں ترمیم میں صرف اعلی عدالتوں میں جج صاحبان کی تعیناتی کو ہی مدنظر رکھا گیا ہے جبکہ اٹھاوہویں آئینی ترمیم کی جو شقیں ابھی تک سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں اُن کے بارے میں کوئی اقدام نہیں اٹھائےگئے۔

اُنہوں نے کہا کہ اُنیسویں ترمیم میں سیاسی جماعتوں میں انتخابات اور ان جماعتوں کے قائدین کو دیے جانے والے لامحدود اختیارات کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اُنیسویں ترمیم صرف ججوں کی تعیناتی کے بارے میں ہے جبکہ سیاسی جماعتوں میں آمریت پھیلائی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 21 اکتوبر کو اٹھارہویں آئینی ترمیم کی کچھ شقوں کے خلاف دائر ہونے والی درخواستوں پر فیصلہ دیتے ہوئے صرف اعلی عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کے بارے میں پارلیمنٹ کو 175 اے کا از سرنو جائزہ لینے کے بارے میں کہا گیا ہے جبکہ باقی شقوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ۔ ان درخواستوں کی سماعت جنوری کے تیسرے ہفتے میں ہو گی۔

Image caption رضا ربانی کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے اٹھارہویں ترمیم بھی تیار کی تھی

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں جب بھی تبدیلیاں کی گئیں وہ فوجی آمروں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے کیں جبکہ موجودہ پارلیمنٹ نے اداروں کی مضبوطی کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کی کچھ شقوں سے متعلق سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اُس میں بھی پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کیا گیا ہے اور عدالت عٌظمی نے پارلیمنٹ کو ہی اس کا ازسر نو جائزہ لینے کے بارے میں کہا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فوجی آمروں کے دور میں نہ تو ملک میں صدارتی نظام تھا اور نہ ہی پارلیمانی جبکہ آئین میں صرف پارلیمانی طرز حکومت کی گُنجائش ہے۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ موجودہ سیاسی جماعتوں کی قیادت نے سیاسی پُختگی کا مظاہرہ کیا ہے اور تمام مسائل کو پارلیمنٹ کے اندر افہام تفہیم سے طے کیا جائے گا۔

اُنیسویں ترمیم کی قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد اسے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں منظوری کے لیے بھیجا جائے گا جس کے بعد اسے صدر مملکت کو بھجوایا جائے گا۔

ایک غیر سرکاری تنظیم پلڈاٹ کا کہنا ہے کہ اُنیسویں ترمیم کو قومی اسمبلی سے پاس کروانے سے پہلے اس پر سیر حاصل گفتگو ہونی چاہیے تھی تاکہ اس میں اگر کوئی ابہام ہے تو اُس کو دور کیا جا سکے۔ ایک بیان میں اس تنظیم کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کا کردار محض رسمی نہیں ہونا چاہیے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ آئینی اصلاحاتی کمیٹی نے اٹھارہویں اور اُنیسویں ترامیم کے لیے بہت کام کیا اور اس میں پالیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی بھی شامل ہے لیکن قومی اسمبلی کے 342 ارکان کو کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں