ممبئی حملہ کیس، آئی ایس آئی سربراہ کے سمن جاری

Image caption احمد شجاع پاشا کے ساتھ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کو بھی طلب کیا گیا ہے

سنہ دو ہزار آٹھ کے ممبئی حملوں کے معاملے میں نیویارک میں بروکلین کی عدالت میں جاری ایک مقدمے کے سلسلے میں، پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ اور کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے کئی عہدیداروں کو اگلے ماہ جنوری میں عدالت میں پیش ہونے کے لیے سمن جاری کر دیے گئے ہیں۔

ادھر پاکستانی دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سفارتی عملے کو تاحال یہ سمن موصول نہیں ہوئے ہیں اور سمن دیکھے بغیر ان پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ مقدمہ امریکی قانون کے تحت دہشتگرد حملوں میں زخمی ہونے والے ایک امریکی شہری اور ان حملوں میں ہلاک ہونے والے چار امریکی شہریوں کے لواحقین نے دائر کیا ہے۔

نیویارک سے صحافی سلیم رضوی کے مطابق عدالت نے اس مقدمے میں آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا اور سابق سربراہ جنرل ندیم تاج کے نام سمن جاری کر کے انہیں عدالت میں طلب کیا ہے۔

عدالت نے پاکستانی فوج کے دو افسران میجر علی اور میجر اقبال کو بھی طلب کیا ہے۔ ان کے علاوہ جن افراد کے سمن جاری کیے گئے ہیں ان میں لشکرِ طیبہ کے ذکی الرحمان لکھوی اور جماعت الدعوہ کے امیر حافظ سعید بھی شامل ہیں۔

ممبئی حملوں میں ہلاک ہونے والے یہودی ربی گیبریئل ہولزبرگ اور ان کی اہلیہ روکا کے وکیل کا کہنا ہے کہ سبھی سمن جاری کر دیے گئے ہیں اور جنوری میں ان سبھی کو یا تو خود یا کسی وکیل کی معرفت سے عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکلوں کو زرِ تلافی دیا جانا چاہیے تاہم انہوں نے تسلیم کیا یہ معاملہ طول پکڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے اپنے موکلوں کو بتا دیا ہے کہ اس مقدمے میں کئی برس لگ سکتے ہیں تاہم میرے موکل اس مقدمے کو حتمی انجام تک پہنچانے کے لیے کمربستہ ہیں‘۔

دفترخارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے نامہ نگار آصف فاروقی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمن ابھی تک انہوں نے نہیں دیکھے اس لیے وہ ان پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔ عبدالباسط کا کہنا تھا کہ عموماً اس طرح کے سمن سرکاری افسران تک سفارتی ذرائع ہی سے پہنچتے ہیں اور اس مقدمے میں ابھی تک کسی سفارتی عملے کو ان سمنز کے بارے میں اطلاع نہیں ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل اطہر عباس نے اسی نوعیت کا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے علم میں نہیں ہے کہ آئی ایس آئی نے امریکی عدالت کے سمن وصول کیے ہیں یا نہیں۔ جنرل اطہر عباس کا کہنا تھا کہ جب تک سمن وصول نہیں ہو جاتے ان پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔

اس مقدمے میں آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج کے افسران پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے ممبئی حملوں کے لیے دہشتگردوں کو تربیت دی اور ان کی مدد کی۔ لشکر طیبہ کے عہدیداران پر بھی دہشتگردی میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ چند روز قبل بھی اس مقدمے کا ذکر اس وقت خبروں میں آیا تھا جب پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے ایک رہائشی نے ڈرون حملوں پر ان کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کریم خان نامی اس شخص نے اس سلسلے میں امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس، سی آئی اے کے سربراہ لیون ایڈورڈ پنیٹا اور اسلام آباد میں سی آئی اے کے انچارج جوناتھن بینکس کو قانونی نوٹس بھیجا تھا۔

اس نوٹس بھیجے جانے کے بعد اسلام آباد میں سی آئی اے کے انچارج جوناتھن بینکس کو واپس امریکہ بلا لیا گیا تھا اور امریکی حکام نے ان کی روانگی کی وجہ ان کی زندگی کو لاحق خطرات بتائے تھے۔

اسی بارے میں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی جاسوسی اہلکاروں کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستان میں مبینہ طور امریکی جاسوسی ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ کا نام افشا کیے جانے کے پیچھے مشتبہ طور پر پاکستانی جاسوسی ادارے آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے۔

اخبار نے امریکی جاسوسی اداروں کے حکام کےحوالےسے یہ بھی قیاس کیا تھا کہ ممکنہ طور پاکستان میں امریکی سی آئي کے کے عملداروں کے خلاف فوجداری فریاد نیویارک کی ایک وفاقی عدالت میں آئی ایس آئی کیخلاف دائر مقدمے کے بدلے میں کی گئی۔

تاہم پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ترجمان نے اس تاثر کی نفی کی تھی کہ آئی ایس آئی نے پاکستان میں مقیم سی آئی اے کے اعلیٰ ترین اہلکار کی شناخت بے نقاب کرنے میں مدد کی تھی۔

اسی بارے میں