بینظیر قتل:پولیس افسران ایف آئی اے کےحوالے

بینظیر بھٹو: فائل فوٹو
Image caption بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد جائے وقوعہ کو فوراً دھو دیا گیا تھا

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس ایس پی خُرم شہزاد کو چھ روزہ جسمانی ریمانڈ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے حوالے کر دیا ہے جبکہ سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے اہلکاروں کو بھی شامل تفتیش کیا جائے گا۔

بینظیر بھٹو کی ہلاکت: خصوصی ضمیمہ

مناسب سکیورٹی ہوتی تو بینظیر بچ سکتی تھیں: اقوامِ متحدہ کی رپورٹ

عدالت نے تحقیقاتی ٹیم کو ملزمان کے خلاف چالان جلد از جلد پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

بینظیر بھٹو کی لیاقت باغ کے باہر ایک خودکش حملے میں ہلاکت کے وقت ڈی آئی جی سعود عزیز راولپنڈی پولیس کے سربراہ تھے جبکہ ایس ایس پی خُرم شہزاد راول ٹاؤن میں تعینات تھے۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ان ملزمان کو پولیس کے سخت پہرے میں عدالت میں پیش کیا گیا اور تفتیشی افسر نے ملزمان کے بارہ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر اور سرکاری وکیل کا موقف تھا کہ مذکورہ افراد بینظیر بھٹو قتل کے بارے میں بہت سی معلومات رکھتے ہیں جو ابھی تک اُنہوں نے خفیہ رکھی ہوئی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس مقدمے کے حوالے سے ملزمان کے زیر استعمال موبائل فون کا ریکارڈ حاصل کیا جانا چاہیئے۔

ملزمان کے وکیل ملک رفیق نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کسی بھی موبائل کمپنی کے پاس ایسی کوئی ٹیکنالوجی نہیں ہے جو ایک سال سے زائد عرصے تک کسی موبائل فون کا ریکارڈ رکھ سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ اُن کے موکلوں کے خلاف ابھی تک کوئی ناقابل تردید شواہد عدالت میں پیش نہیں کیے گئے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ اُن کا بینظیر بھٹو کے قتل کی سازش میں کوئی کردار ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے اُن کے موکلوں کو اس مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔

سرکاری وکیل ذوالفقار احمد نے سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ دوران تفتیش ملزمان نے بتایا ہے کہ وقوعہ کے روز فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور ایم آئی کے افسران اُن کے ساتھ رابطے میں تھے۔ سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ خفیہ ایجنسیوں کے ان اہلکاروں کو بھی شامل تفتیش کیا جائے گا اس کے علاوہ دیگر افراد سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ان پولیس افسران نے وقوعہ کے ایک گھنٹے کے بعد ہی جائے حادثہ کو دھو دیا جبکہ جائے وقوعہ کو پندرہ دنوں تک محفوظ کرنے کی قانون میں گُنجائش موجود ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ سابق فوجی آمر پرویز مشرف پر جب راولپنڈی میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا تواُس وقت جائے حادثہ کو چار روز تک نہیں دھویا گیا تھا۔

واضح رہے کہ بینظیر بھٹو قتل کے مقدمے میں پانچ ملزمان اس وقت اڈیالہ جیل میں ہیں اور ان دونوں پولیس افسران کی گرفتاری کے بعد ان کی تعداد سات ہوگئی ہے۔ پہلے سے گرفتار ہونے والے پانچوں ملزمان پر فرد جُرم عائد کی جاچکی تھی تاہم اس مقدمے کی تفتیش ایف آئی اے کے سپُرد ہونے کے بعد دوبارہ چالان عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ ان ملزمان پر سات جنوری کو فرم جُرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

اسی بارے میں