زرِ تلافی مشکل مگر بحث اہم

ممبئی حملے
Image caption سنہ دو ہزار آٹھ کو ہونے والے ممبئی حملوں میں نیو یارک کی ایک عدالت نے آئی ایس آئی کے سربراہ کے سمن جاری کیے ہیں

پاکستان کے اعلیٰ ترین انٹیلیجنس ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس کے موجودہ اور سابق سربراہان کے خلاف امریکی عدالت میں دائر ہرجانے کے مقدمے کے نتیجے سے زیادہ ماہرین اس مقدمے کی سماعت کو اہم قرار دے رہے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کے ماہرین کہتے ہیں کہ امریکہ میں اس نوعیت کے مقدمے میں حکومتی اہلکاروں سے ہرجانہ وصول کرنا تو خاصا مشکل ہے لیکن اس کی سماعت کے دوران ممبئی حملوں میں آئی ایس آئی کے کردار پر کھلی بحث متوقع ہے۔

سنہ دو ہزار آٹھ کے ممبئی حملوں کے معاملے میں نیویارک میں بروکلین کی عدالت میں جاری ایک مقدمے کے سلسلے میں، پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ اور کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے کئی عہدیداروں کو اگلے ماہ جنوری میں عدالت میں پیش ہونے کے لیے سمن جاری کیے گئے ہیں۔

یہ مقدمہ امریکی قانون کے تحت دہشتگرد حملوں میں زخمی ہونے والے ایک امریکی شہری اور ان حملوں میں ہلاک ہونے والے چار امریکی شہریوں کے لواحقین نے دائر کیا ہے۔ مدعیان کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی ہلاکت کے بدلے زر تلافی کی توقع رکھتے ہیں۔

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اس سویلین مقدمے میں زر تلافی کا حصول خاصا مشکل دکھائی دیتا ہے لیکن اس دوران ممبئی حملوں اور آئی ایس آئی کے درمیان تعلق پر ایسی بحث چھڑ سکتی ہے جو پاکستان کے مفاد سے متصادم ہو سکتی ہے۔

ماہر قانون فروغ نسیم کے مطابق امریکی عدالت کسی فوجداری مقدمے میں تو سمندر پار سے افراد کو طلب کر سکتی ہے لیکن سول مقدمے میں ایسا ممکن نہیں ہے۔

’زرتلافی کے لیے دائر مقدمہ سول کیس کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی حدود امریکہ کے اندر ہی ہو سکتی ہے۔ بیرون ملک سے کسی بھی فرد یا ادارے کو امریکی عدالت کسی سول مقدمے میں طلب نہیں کر سکتی۔‘

بین الاقوامی قانون کے وکیل احمر بلال صوفی نے اس مقدمے میں ایک اور قانونی سقم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس آئی کے افسران پاکستانی ریاست کا حصہ ہیں اور زر تلافی کے لیے دائر مقدمے میں ریاست کو عدالت میں طلب نہیں کیا جا سکتا۔

’اگر پاکستانی ریاست اس مقدمے میں پیش ہو کر یہ ثابت کر دے کہ یہ افسران ریاست کا حصہ ہیں تو ان کے خلاف مقدمہ ختم ہو سکتا ہے۔‘

لیکن احمر بلال کے مطابق مسئلہ اس مقدمے کے قانونی پہلو نہیں بلکہ حکومت اور آئی ایس آئی کے لیے اصل درد سر وہ کارروائی ہو گی جس کے دوران پاکستانی ریاستی اداروں کو سنگین الزامات کا سامنا کرنا ہو گا۔

’ابھی تک چند بھارتی اہلکاروں کے علاوہ کہیں یہ بحث نہیں ہو رہی کہ آئی ایس آئی ممبئی حملوں میں ملوث تھی۔ لیکن اگر اس مقدمے کی سماعت ہوتی ہے تو اس میں یہ نکتہ ضرور زیر بحث آئے گا اور امریکی میڈیا میں یہ بحث چھڑ جائے گی۔‘

خود مدعیان کے وکیل جان کرینڈلر بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ یہ مقدمہ جیتنا آسان نہیں ہو گا اور فتح کے لیے انہیں بہت سی قانونی رکاوٹیں عبور کرنا ہوں گی۔

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کو انٹرویو میں یہودی راہبوں کے وکیل نے کہا کہ وہ اس مقدمے کو لاکربی طیارے کے مقدمے کی طرز پر لڑنا چاہتے ہیں لیکن اسی مقدمے کی طرح یہ مقدمہ بھی بہت طویل ہو سکتا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ اور فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ پاکستان میں ابھی تک امریکی عدالت کے سمن نہیں پہنچے ہیں۔

سینئر وکیل اطہر من اللہ کا کہنا ہے کہ امریکی عدالت کو یہ قانونی حق نہیں کہ وہ پاکستانی انٹیلیجنس سربراہ کو اس نوعیت کے مقدمے میں طلب کرے لہذا یہ سمن غیر قانونی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کو ان سمن کے جواب نہیں دینے چاہئیں۔

احمر بلال صوفی کے مطابق حکومت کے لیے یہ فیصلہ کرنا خاصا مشکل ہو گا کہ وہ سمن کا جواب دے یا اسے نظر انداز کر دے۔

’دونوں صورتوں میں مقدمے کا اصل مقصد تو پورا ہو ہی جائے گا اور وہ ہے ممبئی حملوں میں آئی ایس آئی کے کردار پر بحث۔‘

امریکی مرکز برائے آئینی حقوق بھی اس مقدمے میں فریق ہے۔ اس ادارے کی ترجمان ماریا لاہوڈ کے مطابق وہ جانتی ہیں کہ ان کے مؤکلوں کو زرتلافی ملنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل کو بتایا کہ ان کا مقصد مدعا الیہان کے جرائم کو لوگوں کے سامنے بے نقاب کرنا ہے۔

’یہ مقدمہ اصل میں متاثرین کے لیے انصاف کے حصول کے لیے ہے چاہے انہیں رقم ملے یا نہیں۔‘

اسی بارے میں