’غیر ملکی افواج ناقابل برداشت‘

Image caption دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور چین کے مابین جوہری شعبے میں تعاون صرف پرامن مقاصد کےلیے ہیں

پاکستان نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں کسی غیر ملکی فوج کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور پاکستانی فوج شدت پسندوں سے نمٹنے کی پوری اہلیت رکھتی ہے۔

یہ بات دفترِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتائی۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر پاکستان نے اپنا واضح مؤقف پیش کیا ہے اور امریکہ کو پاکستان کا مؤقف اور ریڈ لائنز معلوم ہیں۔

نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق عبدالباسط نے بتایا کہ افغانستان میں موجود نیٹو افواج کو صرف افغانستان میں کارروائی کا مینڈیٹ ہے اور پاکستان کے علاقوں میں ملکی سکیورٹی فورسز شدت پسندوں سے نمٹنے کی پوری اہلیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر کسی غیر ملکی فوج کو کارروائی کی اجازت نہیں دے گا۔

شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کو ملکی سکیورٹی کی صورتحال کا بخوبی علم ہے اور آپریشن کا فیصلہ ضرورت پڑنے پر کیا جائےگا۔

افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ افغانستان میں صرف طاقت کے استعمال سے امن و استحکام نہیں ہو سکتا اور افغانستان کے استحکام کےلیے پاکستان افغان حکومت کی کوششوں کا حامی ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان جوہری شعبے میں تعاون بڑھانے پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور چین کے مابین جوہری شعبے میں تعاون صرف پرامن مقاصد کےلیے ہیں اور یہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے اس لیے اس پر کسی بھی قسم کی تشویش غیر ضروری ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت کو معلوم ہے کہ پاکستان اور بھارت کے وزائے خارجہ کے درمیان اس سال جولائی میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کا کون ذمہ دار ہے اور یہ بھارت ہے جو اس مذاکرات کے ناکامی کا ذمہ دار ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت ہمیشہ مذاکرات سے گریز کرتا رہا ہے اور وہ اس وقت سے پریشان ہے جب سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر بات کی تھی۔

ان کے مطابق پاکستان کشمیر سمیت تمام معاملات پر مذاکرات شروع کرنا چاہتا ہے اور اگر بھارت کشمیر کے علاوہ مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو یہ ناممکن ہے۔

اسی بارے میں