طورخم سے کابل تک

پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے طورخم سے لے کر افغان دارالحکومت کابل تک قریباً دو سو چوبیس کلومیٹر کے علاقے میں پچھلے چند سالوں کے دوران کئی قسم کی تبدیلیاں آئی ہیں۔ تاہم جس چیز سے افغان شہری مطمئن نظر آتے ہیں وہ بیرونی ممالک کے تعاون سے جاری تعمیر نو کا عمل ہے۔

سرحدی شہر طورخم ہمیشہ کی طرح آج بھی صبح سے لے کر شام تک ایک ہجوم کا منظر پیش کرتا ہے۔ روزانہ اس سرحد سے ہزاروں افراد بغیر ویزے کے گزرتے ہیں جبکہ دونوں جانب داخلے پر کسی قسم کی کوئی پابندی بھی نہیں۔ سرحد پر مامور دونوں ملکوں کے اہلکار بغیر ویزہ سفر کرنے والے افراد سے تلاشی تک نہیں لیتے۔ ان کو سرحد پار کرنے میں کسی قسم کی مشکل درپیش نہیں۔

طورخم سرحد پر بسوں کا ایک اڈا بھی بنایا گیا ہے جو اس سے پہلے وہاں نہیں تھا۔ اس اڈے سے صبح سے لے کر شام تک جلال آباد شہر کی طرف گاڑیوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے۔ اس بس اڈے سے وہ کوچز بھی سفر کرتی ہیں جو پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں نے افغان عوام کو تحفے کے طورپر دی ہیں۔ پاکستانی بسوں پر ’پاک افغان دوستی زندہ باد اور تحفہ از پاکستان‘ کے الفاظ لکھے ہوئے ہیں۔

طورخم سے سڑک کے راستے کابل جاتے ہوئے سب سے پہلے بڑا شہر جلال آباد آتا ہے جو صوبہ ننگرہار کا دارالحکومت بھی ہے۔ یہ شہر پاک افغان سرحد سے تقریباً ستر کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس ستر کلومیٹر کے فاصلے پر یہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ یہ کوئی افغان علاقہ ہے بلکہ ایسے لگتا ہے کہ جیسا آپ کسی پاکستانی علاقے میں سفر کررہے ہیں۔یہاں ہر طرف افغان کرنسی اور امریکی ڈالروں کے ساتھ ساتھ پاکستانی کرنسی بھی چلتی ہے۔ تاہم کابل اور اطراف کے مقامات میں پاکستانی روپے کا استعمال کچھ زیادہ نہیں۔

سرحدی مقامات پر پاکستانی مزدور طبقہ اور کاریگر بھی بڑی تعداد میں دکھائی دیتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت افغانستان کی تعمیر نو میں ہزاروں پاکستانی مزدور کام کررہے ہیں۔

اس علاقے میں جو اہم تبدیلی دیکھنے میں آئی وہ طورخم جلال آباد سڑک کی تعمیر ہے۔ چار سال پہلے جب میں یہاں آیا تھا تو ان دنوں یہ سڑک کئی مقامات پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی جبکہ ناہموار ہونے کی وجہ سے ستر کلومیٹر کا فاصلہ بھی گھنٹوں میں طے ہوتا تھا لیکن اب یہ سفر منٹوں میں ختم ہو جاتا ہے۔ یہ سڑک پاکستان کے تعاون سے سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں مکمل ہوئی تھی لیکن اس کے مکمل ہونے میں کئی سال لگے تھے جس سے افغان عوام سخت مشکل کا شکار رہے۔

جلال آباد شہر میں بھی ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہے جبکہ سڑک کے آس پاس کئی نئی عمارات اور ہوٹلز بنائے گئے ہیں۔ جلال آباد سے کابل شہر تک سڑک بھی اب وسیع کردی گئی ہے جس سے فاصلہ کافی کم ہوکر رہ گیا ہے۔

اس اہم شاہراہ پر سکیورٹی کی صورتحال بھی کافی حد تک بہتر بتائی جاتی ہے۔ مقامی ڈرائیور بتاتے ہیں کہ رات کے وقت بھی دیر تک اس شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے جو ان کے بقول اس سے پہلے کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔

طورخم سے کابل شہر تک سڑک پر جگہ جگہ سکیورٹی چیک پوسٹیں قائم ہیں جہاں تمام گاڑیوں کی تلاشی لی جاتی ہے۔ لیکن یہ شاہراہ افغان پولیس کے کنٹرول میں ہے۔ اس شاہراہ پر دن کے وقت افغان اور غیر ملکی ا فواج کی گاڑیاں بھی گشت کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔

غیر ملکی افواج کی طرف سے سڑک پر گشت کے دوران اکثر اوقات پبلک گاڑیوں کو مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ جب تک غیر ملکی افواج کی گاڑیاں سڑک پر موجود رہتی ہیں اس وقت تک دیگر گاڑیوں کو انہیں اوور ٹیک کرنے کی اجازت حاصل نہیں ۔

کابل سے چند کلومیٹر دور تنگی آبریشم کا علاقہ کئی سنگلاخ پہاڑی سلسلوں کے درمیان میں واقع ہے جبکہ یہاں سڑک ان پہاڑوں کی درمیان میں سے گزرتی ہے۔ اونچے پہاڑ ہونے کی وجہ سے کبھی کبھار اس علاقے سے نیٹو کو تیل اور خوراک سپلائی کرنے والی گاڑیوں پر حملے بھی ہوجاتے ہیں لیکن افغان عوام کے نزدیک یہ کوئی اتنے بڑے واقعات نہیں سمجھے جاتے۔

ایک ٹیکسی ڈرائیور عادل نے بتایا کہ نیٹو گاڑیوں پر حملوں کا براہِ راست عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لیے اس سے کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے چند سالوں سے سے جلال آباد اور کابل شہر کے درمیان سکیورٹی کی صورتحال بہت حد تک بہتر ہوگئی ہے۔ البتہ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے سرحدی اور دور دراز صوبوں میں امن و امان کی صورتحال کوئی زیادہ اچھی نہیں اور وہاں طالبان کا ا اثر رسوخ زیادہ بتایا جاتا ہے۔