آسیہ بی بی کی رہائی کا مطالبہ

Image caption مظاہرین لاہور پریس کلب کے سامنے اکٹھے ہوئے اور وہاں سے ایک ریلی شکل میں پنجاب اسمبلی کی طرف روانہ ہوئے

پاکستان کے شہر لاہور میں مسیحی برادری نے کرسمس کے تہوار کے موقع پر احتجاج کیا اور مظاہرین نے یہ مطالبہ کیا کہ توہین رسالت کے قانون کو ختم کیا جائے اور اس قانون کے تحت سزائے موت پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو رہا کیا جائے۔

یہ احتجاج پاکستان کرسچن ڈیموٹیک الائنس کے زیر انتظام ہوا اور احتجاج میں خواتین اور بچوں نے بھی شرکت کی۔ یہ پہلا موقع ہے جب پاکستان میں مسیحی برادری نے کرسمس پر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

مظاہرین لاہور پریس کلب کے سامنے اکٹھے ہوئے اور وہاں سے ایک ریلی شکل میں پنجاب اسمبلی کی طرف روانہ ہوئے۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ ریلی میں شامل افراد نے بینرز اور پلے کارڈرز کے علاوہ سیاہ پرچم بھی اٹھا رکھے تھے جبکہ بینرز اور پلے کارڈز پر توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنے اور آسیہ بی بی کی رہائی کے مطالبات درج تھے۔

مسیحی برداری کی یہ ریلی جب پنجاب اسمبلی کے سامنے پہنچی تو احتجاج میں شامل افراد نے کچھ دیر کے دھرنا بھی دیا۔

پنجاب اسمبلی کے سامنے مسیحی رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ توہین رسالت کے قانون کو ختم کیا جائے کیونکہ بقول ان کے اس قانون کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔

کرسچن ڈیموٹیک الائنس کے صدر جوزف فرانسس نے کہا کہ ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرے جنہوں نے توہین رسالت کے جھوٹے مقدمے درج کرائے۔

انہوں نے علماء کو یہ پیشکش کی کہ وہ آسیہ بی بی کے خلاف درج مقدمہ کا کھلے دل سے جائزہ لیں اور اس کی چھان بین کرلیں اگر یہ ثابت ہوجائے ی آسیہ بی بی نے کوئی جرم کیا ہے اور اس نے گستاخی رسول کی تو اس کو سزا دے دیں۔

جوزف فرانسس نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے بھی اپیل کی کہ آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف دائر کی جانے والی اپیل پر جلد سماعت کا حکم دیا جائے۔

مسیحی رہنما اسلم پرویز سہوترا نے توہین رسالت کے قانون کو ختم کرانے کے لیے تحریک شروع ہوگئی ہے۔

رہنماؤں کے خطاب کے بعد مظاہرے میں شامل افراد پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

آسیہ بی بی پاکستان میں پہلی مسیحی خاتون ہیں جن کو توہین رسالت کے الزام میں مقامی عدالت نے موت کی سزا سنائی ہے اور ان کی اس سزا کے خلاف اپیل پر ابھی لاہور ہائی کورٹ نے سماعت کرنی ہے۔

ادھر ہائی کورٹ کے جسٹس ناصر سعید شیخ نے آسیہ بی بی کی صدارتی حکم کے ذریعے ممکنہ رہائی اور توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے دائر درخواستیں چیف جسٹس کو اس سفارش کے ساتھ بھجوادیا کہ ان کی سماعت کے لیے بڑا بنچ تشکیل دیا جائے۔

اسی بارے میں