ہوگئی حسرت پوری

ڈاکٹر بنائک سین
Image caption ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ڈاکٹر سین کوضمیر کا قیدی قرار دیا

ایران کے عالمی شہرت یافتہ پچاس سالہ فلم ساز جعفر پنہائی جب دس برس کے تھے تو انہوں نے اپنی پہلی کتاب لکھی اور ایک ادبی مقابلہ جیت لیا۔

بارہ برس کی عمر میں ایٹ ایم ایم کے کیمرے پر شوٹنگ شروع کردی۔انیس سو اسی سے نواسی تک جاری رہنے والی عراق ایران جنگ میں فوجی خدمات انجام دیں۔اس جنگ پر ایک دستاویزی فلم بنائی۔ایرانی ٹی وی کے لیے ٹیلی فلمیں بناتے رہے۔

ان کا شمار ایران میں جدید فلم سازی کے ہراول لوگوں میں ہوتا ہے۔ جعفر معروف فلم ساز عباس رستمی کے اسٹنٹ رہے۔ انیس سو پچانوے میں اپنی پہلی فیچر فلم وائٹ بلون اور اس کے بعد دی سرکل، دی مرر، کرمزن گولڈ اور پھر آف سائیڈ جیسی فلمیں بنائیں۔ جعفر پنہائی کی فلموں نے وینس ، کان ، لوکارنو اور برلن میں ہونے والے فلمی میلوں میں انعامات حاصل کیے۔

گذشتہ برس جون میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر محمود احمدی نژاد کی متنازع کامیابی سے پیدا ہونے والے ردِ عمل کے دوران جعفر کو بھی اس وقت مختصرحراست میں لیا گیا جب انہوں نے تہران کے ایک مظاہرے میں ہلاک ہونے والی لڑکی ندا آغا سلطان کے جنازے میں شرکت کی۔ پھر انہیں رہا کردیا گیا مگر پاسپورٹ ضبط ہوگیا۔اس سال یکم مارچ کو جعفر پنہائی اپنی اہلیہ ، بیٹی اور پندرہ دوستوں سمیت حراست میں لیے گئے لیکن باقاعدہ فردِ جرم نہیں لگائی گئی۔

پچاس ایرانی فلم سازوں اور اداکاروں نے سرکار کے نام ایک مشترکہ یادداشت میں جعفر کی رہائی کی اپیل کی۔جبکہ ہالی وڈ کی انیس فلمی شخصیات نے جن میں سٹیون سپیل برگ، فرانسس فورڈ کپولا، اولیور سٹون اور مائکل مور جیسے فلمساز اور رابرٹ ریڈ فورڈ اور رابرٹ ڈی نیرو جیسے اداکار شامل ہیں، ایک خط میں جعفر پنہائی کی رہائی کی اپیل کی۔مئی میں جعفر کو دو لاکھ ڈالر کی ضمانت پر رہا کردیا گیا۔

لیکن بیس دسمبر کو تہران کی ایک عدالت نے جعفر پنہائی اور ان کے ساتھی فلمساز محمد رسولوف کو گذشتہ برس کے پرتشدد احتجاج کے پس منظر میں ایک حکومت مخالف فلم بنانے، غیرقانونی اجتماعات میں شرکت، حکومت کے خلاف منفی پروپیگنڈے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزامات میں چھ سال قید کی سزا سنادی ۔جبکہ جعفر پر بیس برس تک بیرونِ ملک سفر، کچھ لکھنے اور ملکی و غیرملکی میڈیا کو انٹرویو دینے پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔

ادھر بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ میں ایک سیشن عدالت نے کمیونٹی ہیلتھ کے عالمی شہرت یافتہ نام اور انسانی حقوق کے ادارے پیپلز یونین آف سول لبرٹیز کے ریاستی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر بنائک سین کو انتہا پسند نکسلیوں سے روابط اور غداری کے الزام میں دو روز پہلے عمر قید کی سزا سنادی۔ڈاکٹر سین کو مئی دو ہزار سات میں چھتیس گڑھ سپیشل پبلک سیکورٹی ایکٹ کے تحت جیل میں بند ستر سالہ نکسل رہنما نارائن سانیال اور کلکتہ کے ایک تاجر پیوش گوہا کے درمیان پیغام رسانی کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔حالانکہ ڈاکٹر بنائک سین کی نارائن سانیال سے جو تینتیس ملاقاتیں ہوئیں وہ جیل حکام کی رضامندی اور نظروں کے سامنے ہوئی تھیں۔

ڈاکٹر بنائک سین جیسے ’غدار‘ کی رہائی کے لیے نہ صرف ان کے ساتھی ڈاکٹر چندہ جمع کرتے رہے بلکہ بائیس نوبیل انعام یافتہ عالمی شخصیات نے بھارتی صدر اور وزیرِ اعظم کو ایک تحریری یاداشت میں ڈاکٹر سین کی رہائی کا مطالبہ کیا۔برطانوی دارلعوام میں ان کی رہائی کے مطالبے کی قرار داد پیش ہوئی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ڈاکٹر سین کوضمیر کا قیدی قرار دیا ۔

دورانِ حراست انہیں غیر معمولی طبی و انسانی خدمات کے اعتراف میں امریکہ کا جوناتھن مان ایوارڈ ملا۔دو برس کی حراست کے بعد سپریم کورٹ نے گذشتہ سال مئی میں ڈاکٹر بنائک سین کو ضمانت پر رہا کردیا۔لیکن چھتیس گڑھ پولیس نے انہیں نقضِ امن کے ایک اور مقدمے میں دھر لیا۔اب سے دو روز پہلے چوبیس دسمبر کو رائے پور کی سیشن عدالت نے ڈاکٹر بنائک سین، نارائن سانیال اور پیوش گوہا کو ایک کپڑا فروش انیل کمار سنگھ کی اکیلی شہادت پر عمر قید کی سزا تھما دی۔

ڈاکٹر بنائک سین گذشتہ تیس برس سے چھتیس گڑھ کے انتہائی پسماندہ علاقے بستر میں بے آسرا قبائلیوں کے لیے طبی خدمات انجام دے رہے تھے اور نکسلوں کے خلاف مہم کی آڑ میں ان قبائلیوں کے بنیادی حقوق کی پامالی پر کھل کے بات کرتے تھے۔

ان حالات میں ایران اور بھارت کے درمیان سینڈوچ پاکستان کی موجودہ حکومت جن چند باتوں پر فخر کرتی ہے ان میں یہ بھی ہے کہ پاکستان میں اس وقت کوئی شخص سیاسی اختلاف کے سبب قید نہیں ہے۔یہ بات درست ہے کیونکہ اب زیادہ تر وہ لوگ جیل جاتے ہیں جن پر دھشت گردی یا اخلاقی جرائم کے الزامات ہوں۔باقی یا تو عموماً سمجھوتہ کرلیتے ہیں یا غائب ہوجاتے ہیں یا مرجاتے ہیں۔

ایران میں انقلاب اس لیے آیا کیونکہ رضا شاہ پہلوی کسی کو چوں نہیں کرنے دیتے تھے۔

بھارت میں انگریزی استبداد سے نجات پانے کی جدوجہد کے پیچھے یہ شدید خواہش تھی کہ آزادی کے بعد ایسا لوک تنتر قائم ہوسکے جس میں کوئی کسی کے حق پر ڈاکہ نہ ڈال سکے۔

پاکستان اس بنیاد پر لیا گیا تاکہ متحدہ ہندوستان میں اکثریت کے ہاتھوں مسلمان اقلیت کے حقوق کی پامالی کے جھنجھٹ سے نجات مل جائے اور مسلمان نئے ملک میں عزت و وقار کی زندگی بسر کرسکے۔

ہوگئی نا تینوں ملکوں کی حسرت پوری ! اب کیا مسئلہ ہے ؟

اسی بارے میں