پولیس اہلکار سہولت کار تھے: سرکاری وکیل

سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کے سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار احمد کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس ایس پی خُرم شہزاد بینظیر بھٹو پر حملہ کرنے والوں کے سہولت کار تھے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی سیکورٹی پر تعینات اے ایس پی اشفاق انور اگر اقبالی بیان نہ دیتے تو آج وہ بھی ان دو پولیس افسران کی طرح اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے ٹیم کی حراست میں ہوتے۔

مذکورہ پولیس افسران اُس وقت راولپنڈی میں تعینات تھے جب بینظیر بھٹو کو ستائیس دسمبر سنہ دوہزار سات کو لیاقت باغ کے باہر ایک خودکش حملے میں ہلاک کردیا گیا۔ اس حملے میں چوبیس دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے تھے۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ اشفاق انور نے مجسٹریٹ کے سامنے دیئے جانے والے بیان میں کہا ہے کہ اُس وقت کے راولپنڈی پولیس کے سربراہ سعود عزیز نے نہ صرف اُنہیں کرال چوک جانے کا کہاں بلکہ اپنے ساتھ اُن 36 پولیس اہلکاروں کو بھی ساتھ لے کر جانے کا حکم دیا جو بینظیر بھٹو کی سیکورٹی پر تعینات تھے۔ وقوعہ کے روز کرال چوک کے قریب پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کے انتخابی جلسے پر فائرنگ ہوئی تھی جس میں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ یہ علاقہ اسلام آباد کی حدود میں واقع تھا۔

چوہدری ذوالفقار کا کہنا تھا کہ یہ پولیس اہلکار بینظیر بھٹو کو فیض آباد سے لیاقت باغ جلسہ گاہ تک لیکر آئے تھے اور اُنہیں واپس فیض آباد تک چھوڑنا بھی انہی پولیس اہلکاروں کی ذمہ داری تھی جو خودکش حملے کے بعد بھی جائے حادثہ پر نہیں پہنچے۔

اشفاق انور ان دنوں تربیت حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک گئے ہوئے ہیں۔ بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کے دوسرے چالان میں پولیس افسر اشفاق انور اور ڈاکٹر مصدق کے بیانات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر مصدق نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اُنہیں اُس وقت کے راولپنڈی پولیس کے سربراہ سعود عزیز نے بینظیر بھٹو کی لاش کا پوسٹمارٹم کرنے سے روکا تھا۔

پبلک پراسکیوٹر کا کہنا تھا کہ ڈی آئی جی سعود عزیز اور خُرم شہزاد پر اس مقدمے کی ضمنی میں جو دفعات کا اضافہ کیا گیا اُن میں بینظیر بھٹو پر حملہ کرنے والوں کو اعانت فراہم کرنا ہے جس کو قتل سے متعلق ضابطہ فوجداری کی دفعہ 302 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے گا۔

اس سے پہلے پنجاب پولیس نے بینظیر بھٹو کے قتل کا حتمی چالان عدالت میں پیش کیا جس میں اُنہوں نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے اس وقت کے سربراہ بیت اللہ محسود کو بینظیر بھٹو پر حملے کا ماسٹر مائینڈ قرار دیا تھا اور اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے پانچ ملزمان پر فرد جُرم بھی عائد کر دی گئی تھی۔

تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے پہلے تو اقوامِ متحدہ سے اس واقعے کے حقائق جاننے کے لیے رجوع کیا اور پھر اس مقدمے کی تحقیقات وزارت داخلہ کے ماتحت ادارے ایف ائی اے سے کروانے کا فیصلہ کیا۔

چوہدری ذوالفقار احمد کا کہنا ہے کہ ان دو پولیس افسران کی گرفتاری سے بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کو انجام تک پہنچانے میں بڑی مدد ملے گی۔

اس مقدمے کی تحقیقاتی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ان دونوں پولیس افسران نے وقوعہ کے روز فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور ایم آئی کے افسران سے بات چیت کی تھی اُن اہلکاروں کی جانچ پڑتال کے لیے متعلقہ حکام کو لکھ دیا ہے تاہم ابھی تک وہاں سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ایف ائی اے کی ٹیم نے ابتدائی طور پر بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کا ایک عبوری چالان عدالت میں پیش کیا تھا جس میں سعود عزیز اور خُرم شہزاد کو کالم نمبر دو میں رکھا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اُنہیں ان پولیس افسران کے بارے میں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ وہ بینظیر بھٹو کے قتل کی سازش میں ملوث ہیں۔

ان پولیس افسران کو 29 دسمبر کو دوبارہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا اس کے علاوہ ایک ضمنی چالان بھی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ متعلقہ عدالت کے جج رانا نثار ان دنوں چھٹیوں پر ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ ان پولیس افسران کو کسی ڈیوٹی جج کی عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی جائے گی۔

اسی بارے میں