لاہور: مونس الٰہی کے دفتر پر چھاپہ

پرویز الٰہی اور بابر اعوان
Image caption یہ کارروائی ایک ایسے وقت عمل میں آئی ہے جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ قاف کے درمیان رابطے بڑھانے کی کوششیں ہو رہی ہے

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے سابق وزیر اعلیْ پنجاب اور مسلم لیگ قاف کے رہنما چودھری پرویز الہیْ کے بیٹے مونس الہیْ کے دفتر پر چھاپہ مار کر وہاں بعض دستاویزات قبضے میں لے کر مینجر کو حراست میں لیے لیا ہے۔

مونس الہیْ نے ایف آئی اے کے چھاپے کو سیاسی انتقامی کارروائی قرار دیا ہے اور کہا کہ وہ سیاسی ہتھکنڈوں سے گھبرانے والے نہیں۔

ایف آئی اے کی ایک ٹیم نے لاہور کے علاقے گارڈن ٹاؤن میں مونس الہیْ کے دفتر پر چھاپہ مارا اور وہاں سے دستاویزات قبضے میں لینے کے علاوہ دفتر کے مینجر عبدالمالک کو تحویل میں لے لیا۔

مونس الہیْ پنجاب اسمبلی کے رکن ہیں اور چھاپے کے وقت اپنے دفتر میں موجود نہیں تھے۔

نیشنل انشورنس کارپوریشن یعنی این آئی سی میں مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے اس وقت تحقیقات جاری ہے اور ایف آئی اے کی یہ کارروائی بھی اس سلسلے کی ایک کڑی دکھائی دیتی ہے۔

مونس الہیْ محسن وڑائچ کے دوست ہیں جو این آئی سی کی تحقیقات کے سلسلے میں ایف آئی اے کو مطلوب ہیں۔

نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے صحافیوں سے گفتگو کے دران بتایا کہ انہیں اس کارروائی کا عمل نہیں ہے اور ایف آئی اے اپنے فرائض کی ادائیگی میں آزاد ہے۔

ادھر مونس الہیْ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی دوستی کا ثبوت سامنے آگیا ہے اور بقول ان کے دو جماعتوں کی دوستی ان کے دفتر پر ہونے والے حملے کا کھلا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی ہتھکنڈوں سے گھبرانے والے نہیں ہیں بلکہ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔

خیال رہے کہ ایف آئی اے کی کارروائی ایک ایسے وقت عمل میں آئی ہے جب حکمران جماعت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ قاف کے درمیان رابطے بڑھانے کی کوششیں ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں