بلوچستان سے ہندو خاندانوں کی ہجرت

فائل فوٹو
Image caption ہندو برادری نے اغوا برائے تاوان کی بڑھتی ہو وارداتوں پر سخت پریشانی کا اظہار کیا ہے

بلوچستان میں انسانی حقوق کے ڈایکٹر نے کہا ہے کہ عدم تحفظ کی وجہ سے ہندوبرادری کے بہت سے لوگ مجبوراً ہجرت کرکے ہندوستان جاچکے ہیں۔

دوسری جانب ہندوبرادری نے ایک ہفتہ قبل اغواء ہونے والے ہندومذہبی پیشواکی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔ جبکہ پیرکو جعفرآباد سے نامعلوم افراد نےہندومذہب سے تعلق رکھنے والے ایک اور سب انجینئر کو اغواء کرلیا ہے ۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق پیر کے روز بلوچستان کے ضلع جعفرآباد میں بعض نامعلوم مسلح افراد نے ہندو مذھب سے تعلق رکھنے والے سابق مقامی صحافی اور محکمہ ایریگیشن کے سب انجینئر نانک رام کو اغواء کرلیا ہے۔ مقامی پولیس نے مقدمہ درج کرلیاہے لیکن تاحال انکا سراغ نہیں لگاسکی ہے

دوسری جانب ایک ہفتہ قبل قلات میں اغواء ہونے والے قدیم ہندومندرکےمہاراج اور ہندو مذہبی پیشوا حسین لکھ میر اور انکا ساتھی ونود کمار کی بازیابی ابھی تک ممکن نہیں ہوسکی ہے۔

ونود کے ایک رشتہ دارگوربخش لعل نے کہا کہ مہاراج کے اغواء کی وجہ سے نہ صرف انکے خاندان والے خوفزدہ ہیں بلکہ ہندوبرادری بھی پریشان ہے۔ انہوں نے حکومت اور قبائلی متعبرین سے مہاراج حسین لکھ میر اور انکے ساتھی کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیاہے۔

تاہم کوئٹہ میں انسانی حقوق کے ڈایکٹرسعید احمد خان نے کہا کہ بلوچستان میں ہندوبرادری میں سے اکثریت تجارت سے وابستہ ہے، جوملک کی معاشی اور سماجی ترقی میں ایک اہم کردار اداکررہے ہیں۔ لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے انکے نمایاں افراد کی اغواء اور بعد میں رہائی کا سلسلہ شروع ہوگیاہے جسکی وجہ سے ایک سال کے دوران صوبے کے مختلف علاقوں سے ہندوبرادری کے ستائیس خاندان مجبورا ہجرت کرکے ہندوستان جاچکے ہیں۔

سعید احمد خان کے مطابق حکومت اور وزارت انسانی حقوق ہندو مذھبی پیشوا کی بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا کر ہندو برادری کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پرکام کرہی ہے ۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں صدیوں سے ہندو برادری کی ایک بڑی تعداد پرامن طور پر آباد ہے۔ ان کی اکثریت سرکاری ملازمت اور تجارت کے شعبے میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں لیکن گذشتہ چند سالوں میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے اغواء برائے تاوان کے وارداتوں میں اضافے کے باعث کئی صاحب استطاعت لوگ بلوچستان میں اپنے جائیدادیں کوڑیوں کے دام فروخت کرکے ہندوستان اور عرب ممالک جاچکے ہیں ۔

اسی بارے میں