’کمیشن کی رپورٹ نامکمل تھی‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدر پاکستان، آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کا تحقیقات کمیشن وہاں تک نہیں پہنچا جہاں اسے پہنچنا چاہیے تھا اس لیے وہ اس نامکمل سمجھتے ہیں۔

نوڈیرو میں بینظیر بھٹو کی تیسری برسی کے موقعے پر منعقد جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ اس رپورٹ میں کچھ باتیں تو تھیں مگر وہ تہہ تک نہ پہنچ سکے ، اس لیے پیپلز پارٹی اور انہوں نے کمیشن کو یہ تحقیقات کرنے پر خوش آمدید کہا مگر اس کے ساتھ اپنے تحفظات کا بھی اظہار کیا، کیونکہ ان کی نظر میں یہ رپورٹ مکمل نہیں ہے۔

ملک بھر سے پیپلز پارٹی کے کارکن اور رہنما گڑھی خدا بخش پہنچے، جن میں سے کئی نے سیاہ کپڑے پہن رکھے تھے۔ صبح کو صدر آصف علی زرداری نے اپنی صاحبزادیوں بختاور اور آصفہ بھٹو کے ہمراہ بینظیر بھٹو کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی بعد میں دوپہر کو بلاول بھٹو مزار پر پہنچے جو خصوصی طیارے کے ذریعے آئے تھے۔

صدر زرداری نے اپنے خطاب میں اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں بھی عوام کو آگاہ کیا۔

’بلاول بھٹو نے امتحان میں اتنے ہی نمبر حاصل کیے ہیں جتنے اس کی والدہ بینظیر بھٹو نے حاصل کیے تھے، ابھی اس کو قانون کی تعلیم حاصل کرنا ہے، عوام کو تھوڑا صبر کرنا پڑے گا اور اسے تھوڑی محنت کرنی پڑے گی۔ بختاور کو سیاسی میدان میں آنے میں تین اور آصفہ کو چار سال چاہیں ان کی تعلیم ابھی جاری ہے۔‘

صدر آصف علی زرداری نے نوڈیرو کو پیپلز پارٹی کا کربلا قرار دیا اور کہا کہ وہ بینظیر بھٹو کے سامنے جوابدہ ہیں، انہوں نے جو جو وعدے کیے اور پروگرام دیا اس پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

صدر زرداری نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی میں تاخیر کو سیاسی حکمت عملی قرار دیا۔

’جو کام لوگ سمجھتے تھے کہ ہم نہیں کریں گے وہ بھی ہم نے کیا، جس جج کے بارے میں بینظیر نے کہا تھا کہ اسے چیف جسٹس بنائیں گے اس کے گھر پر پاکستان کا جھنڈہ لہرائے گا وہ لگا، وہ ہمارے وقت میں لگا جب ہم نے چاہا، وہ ڈوگر صاحب کے جانے کے بعد لگا کیوں کہ اس میں ہماری سیاسی حکمت عملی تھی۔‘

انھوں نے سابق صدر پرویز مشرف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ بینظیر بھٹو کو آنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے مگر آج خود ملک سے باہر زندگی گذار رہے ہیں جبکہ ان کی واپسی پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

اس سے قبل بھٹو خاندان کے ابائی قبرستان گڑھی خدا بخش میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے، لوگوں کو صرف واک تھرو گیٹس سے گذر کر جانے کی اجازت تھی، اس کے علاوہ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات تھی۔