آخری وقت اشاعت:  جمعرات 30 دسمبر 2010 ,‭ 13:45 GMT 18:45 PST

’قانون کا غلط استعمال نہ ہونے دیں گے‘

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ توہین رسالت قانون میں ترمیم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور وہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اس قانون کا غلط استعمال نہ کیا جائے۔

ادھر حکومت کی جانب سے قانون میں ترمیم نہ کرنے کا واضح موقف سامنے آنے کے بعد حقوقِ انسانی اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے اسلام آباد میں احتجاج کیا ہے۔

اطلاعات و نشریات کے وزیرِ مملکت صمصام بخاری نے بدھ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت کا توہین رسالت قانون میں ترمیم کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی کی جانب سے ترمیم کا کوئی بل ایوان میں پیش ہوا ہے تو وہ ذاتی حیثیت میں تھا نہ کہ حکومت کی جانب سے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں حکومت اس قانون میں ترمیم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی وہیں اس امر کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ اس قانون کا غلط استعمال نہ ہو اور اسے اپنا مطلب نکالنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

حکومت کو ایک قانون نافذ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جس سے تمام شہری اپنے آپ کو محفوظ تصور کر سکیں۔

فرزانہ باری

توہین رسالت کے قانون میں ترمیم سے حکومتی انکار مبصرین کے خیال میں سیاسی و معاشی بحرانوں میں گھری پیپلز پارٹی حکومت کی بظاہر کسی نئے بحران سے بچنے کی ایک کوشش ہے۔ خیال رہے کہ مذہبی جماعتوں نے اس قانون میں کسی بھی ترمیم کی کوشش کے خلاف جمعہ کو ملک بھر میں ہڑتال کی کال دی ہے۔

دوسری جانب قانون میں ترمیم نہ کیے جانے پر حقوق انسانی اور سول سوسائٹی تنظیموں پر مشتمل انسانی حقوق اتحاد نے جمعرات کو اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے یہ احتجاج کیا۔

ان کا مطالبہ تھا کہ وفاقی شریعت کورٹ اور عورتوں اور اقلیتوں کے خلاف امتیازی قوانین ختم کیے جائیں۔ تقریباً تین درجن مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر امتیازی قوانین ختم کرنے کا مطالبہ درج تھا۔

انسانی حقوق اتحاد کے مظاہرے میں شریک حقوق انسانی کی کارکن فرزانہ باری کا کہنا تھا کہ حکومت کو ایک قانون نافذ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جس سے تمام شہری اپنے آپ کو محفوظ تصور کر سکیں۔

حقوق تحفظ نسواں بل کی شق گیارہ اور اٹھائیس میں ترامیم بری طرح اثرانداز ہوں گی کیونکہ اس سے زنا اور قذف جیسے آرڈیننس یا قوانین دوبارہ نافذ ہوجائیں گے۔

شاہ تاج قزلباش

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار پیپلز رائٹس اور خواتین محاذ عمل نے بھی وفاقی شرعی عدالت کے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے جس میں حقوق نسواں بل کی بعض شقوں کو آئین کے متصادم قرار دیا گیا ہے۔

جے اے سی کے ایک جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کے حالیہ فیصلے سے صاف ظاہر ہے کہ یہ عدالت انسانیت بالخوص عورتوں کے خلاف امتیازی سلوک اور رویوں کے نشونما میں سرگرم رہی ہے۔ اتحاد کی کنوینر شاہ تاج قزلباش نے کہا ہے کہ حقوق تحفظ نسواں بل کی شق گیارہ اور اٹھائیس میں ترامیم بری طرح اثرانداز ہوں گی کیونکہ اس سے زنا اور قذف جیسے آرڈیننس یا قوانین دوبارہ نافذ ہوجائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ زنا بالجبر اور زنا بالرضا کے مابین جس فرق کو واضح کیا گیا تھاوہ حقوق نسواں بل کی ان شقوں میں ترمیم سے ختم ہوجائے گا اور فوجداری عدالتی نظام میں الجھاؤ پیدا ہوگا۔

خیال رہے کہ پنجاب میں آسیہ بی بی کا کیس کے سامنے آنے کے بعد ملک میں ایک مرتبہ پھر توہین رسالت قانون پر بحث شروع ہوگئی ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔