صدر زرداری کا الطاف حسین سے ٹیلیفون پر رابطہ

آصف زرداری اور ایم کیو ایم کا وفد: فائل فوٹو
Image caption آصف زرداری اور ایم کیو ایم کے وفد کی بات چیت کو بہت مثبت کہا جا رہا ہے: فائل فوٹو

صدرِ پاکستان اور برسرِ اقتدار جماعت پی پی پی کے شریک چیئرمین اور آصف علی زرداری نے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے۔

بدھ کو رات گئے ایم کیو ایم کے گورنر عشرت العباد نے بلاول ہاؤس میں صدرِ پاکستان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک بھی موجود تھے۔

رحمان ملک نے میڈیا کو بتایا کے صدرِ پاکستان نے ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت کے دوران لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ایم کیو ایم کے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ تمام تحفظات دور کیے جائیں گے۔

رحمان ملک نے کہا کہ ’میں یہ بات واضع کر دوں کہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا کوئی جھگڑا ہو گا یا وہ ایک دوسرے کو چھوڑ دیں گے تو وہ یہ بھول جائیں۔ ایسی کوئی بات نہیں ہو گی۔‘

لندن میں ایم کیو ایم کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے رکن انیس ایڈووکیٹ نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے فون پر اپنی بات چیت میں اس بات پر زور دیا کہ ’وہ ایم کیو ایم کو ساتھ لے چلنا چاہتے ہیں اور وہ ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے میں سنجیدہ ہیں۔‘

Image caption فضل الرحمان سے ملاقات کرنے والوں میں رحمان ملک کے علاوہ فاٹا کے ارکانِ اسمبلی بھی شامل تھے

ان کے مطابق صدر زرداری نے یہ بھی یقین دہانی دلائی کہ جب تک ایم کیو ایم کے ساتھ معاملات حل نہیں ہو جاتے وہ کراچی میں ہی موجود رہیں گے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے لندن سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو اچھے ماحول میں ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے ایم کیو ایم کے وزراء کے استعفے اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔ ایم کیو ایم کی پریس ریلیز کے مطابق صدر زرداری نے ایم کیو ایم کے قائد کو بتایا کہ وہ چند روز بعد گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک کو مزید بات چیت کے لیے لندن بھیجیں گے۔

پاکستان کی حکمران جماعت نے اپنی دونوں ناراض اتحادی جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کو منانےکے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔

جہاں صدرِ مملکت آصف علی زرداری خود ناراض اتحادیوں کو منانے کے لیے سرگرم ہیں وہاں وفاقی وزراء اور فاٹا کے اراکین بھی حکومتی اتحاد کو بچانے کے لیے سرگرم ہوگئے ہیں۔

کراچی سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق صدر زرداری نے اپنی پارٹی کے اراکین اسمبلی کو اتحادی جماعتوں کے بارے میں اشتعال انگیز بیانات دینے سے روک دیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ جلد اتحادیوں کی غلط فہمیاں دور کی جائیں گی۔

صدرِ پاکستان کا کہنا ہے کہ اتحادی جماعتوں میں غلط فہمیاں بڑھ گئی ہیں اور انہیں فوری ختم کرنے کی ضرورت ہے جبکہ بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ حکومت بہت جلد ناراض اتحادیوں کو منا لے گی۔

اسی سلسلے میں بدھ کی صبح وزیر داخلہ رحمان ملک نے جمیعت علماء اسلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمٰن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور کابینہ میں ان کی جماعت کی واپسی کے بارے میں بات چیت کی۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ بظاہر تو تاحال حکومت کے ناراض اتحادی جماعتوں سے ملاقاتوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، لیکن فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور اس سے عندیہ ملتا ہے کہ فریقین میں ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کی بنیاد پر مفاہمت کی گنجائش موجود ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کو منانے کے لیے منگل کی رات وفاقی وزیر حمید اللہ جان آفریدی اور منیر اورکزئی کی سربراہی میں فاٹا کے پانچ رکنی پارلیمانی وفد نے بھی ان سے ملاقات کی تھی۔ وفد کے بعض اراکین نے بی بی سی کو بتایا کہ مولانا نے انہیں حکومتی اتحاد میں دوبارہ شمولیت کی یقین دہانی تو نہیں کروائی البتہ ان کے لب و لہجہ میں پہلے کی نسبت کچھ نرمی ضرور پیدا ہوئی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے وفد کو بتایا کہ وہ دس روز کے لیے عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جا رہے ہیں اور واپسی پر اس بارے میں دوبارہ بات چیت ہوگی۔

حکومت کی اتحادی جمعیت علماء اسلام نے اس وقت حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا جب حج سکینڈل کے حوالے سے وزیراعظم کی ہدایات کو نظر انداز کرنے پر جمعیت کے ایک وفاقی وزیر اعظم خان سواتی کو ان کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ اس پر جمعیت کے دو دیگر وزراء نے مستعفی ہو کر حزب مخالف کی نشستوں پر بیٹھنے کا اعلان کیا تھا۔

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹ میں دس، قومی اسمبلی میں سات، صوبہ خیبر پختونخوا میں چودہ، پنجاب میں دو اور بلوچستان میں نو اراکین ہیں۔

Image caption ایم کیو ایم نے وفاقی کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے

صدر زرداری اورگورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی ملاقات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں ہیں۔ تاہم آصف علی زرداری نے بدھ کو کراچی میں اپنی جماعت کے ایک اجلاس میں پیپلز پارٹی کے وزراء کو اتحادیوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے سے روک دیا ہے۔

صدر آصف علی زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ بلاول ہاؤس کراچی میں صدر نے حکمران پیپلز پارٹی کے اراکین سندھ اسمبلی اور صوبائی وزراء کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ اتحادیوں کے ساتھ غلط فہمیوں کو طول نہیں دینا چاہیے کیوں کہ ایسا کرنا بڑی مشکل سے حاصل کردہ سیاسی استحکام کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

صدر نے کہا کہ ان کی مفاہمتی پالیسی جاری رہے گی اور تمام اتحادیوں کو اعتماد میں لے کر آگے چلیں گے۔

خیال رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے حال ہی میں اپنے دو وفاقی وزراء کے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ فی الحال قومی اسمبلی میں حکومتی بینچوں پر ہی بیٹھیں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار الیاس خان کے مطابق بظاہر ایم کیو ایم کی ناراضگی کی وجہ سندھ کے وزیرِ داخلہ ذوالفقار مرزا کی بیان بازی ہے جنہوں نے ایم کیو ایم کا نام لیے بغیر اسے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری میں ملوث قرار دیا تھا۔

ایم کیو ایم نے صوبہ سندھ کی کابینہ سے علیحدگی اور وفاق یا سندھ میں حکومتی بینچوں سے علیحدگی کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ اگر ذوالفقار مرزا کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی تو وہ حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہو جائیں گے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹ میں چھ اراکین ہیں جبکہ قومی اسمبلی میں اس کے پچیس اور سندھ کی صوبائی اسمبلی میں اڑتیس اراکین ہیں۔

پیپلز پارٹی کی قیادت میں حکومتی اتحاد کو اس وقت تین سو بیالیس نشستوں کے پارلیمان میں ایم کیو ایم کے پچیس ارکان سمیت ایک سو اکیاسی ارکان کی حمایت حاصل ہے جبکہ ایوان میں سادہ اکثریت کے لیے ایک سو بہتر ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

اسی بارے میں