انیسویں ترمیم بل متفقہ دستاویز ہے:زرداری

Image caption آئینی ترمیم میں عدلیہ کے کردار کو سلام پیش کرتا ہوں:زرداری

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے آئین میں انیسویں ترمیم کے بل پر دستخط کر دیے ہیں اور ان دستخطوں کے ساتھ ہی یہ ترمیم پاکستان کے آئین کا حصہ بن گئی ہے۔

انہوں نے یہ دستخط کراچی میں منعقدہ تقریب میں کیے۔

انیسویں آئینی ترمیمی بل کا بنیادی مقصد اٹھارویں آئینی ترمیم میں وضع کردہ اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی بھرتی کے نئے طریقۂ کار میں سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق تبدیلی کرنا تھا۔

اس سے قبل پاکستان کے پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی اور ایوان بالا سینیٹ نے اس ترمیم کی منظوری دی تھی۔ سینیٹ نے اتفاق رائے سے یہ بل منظور کیا تھا جبکہ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ق) کی رکن کشمالہ طارق نے اس ترمیم کی مخالفت کی تھی لیکن ان کی جماعت نے متفقہ طور پر یہ ترمیم منظور کروائی تھی۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں صدر زرداری نے کہا کہ انیسویں ترمیم ایک ’متفقہ دستاویز‘ ہے اور قانون کی حکمرانی پر سب کا اتفاق ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آئینی ترمیم میں عدلیہ کے کردار کو سلام پیش کرتے ہیں۔

صدر نے کہا کہ’ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ادارے آپس میں لڑ پڑیں گے مگر ایسا نہیں ہوا‘۔ انہوں نے کہا کہ’ہم اپنے اتحادیوں کو ہمیشہ ساتھ لے کر چلیں گے‘۔

پاکستانی پارلیمان نے 2010 میں آئین میں اٹھارہویں اور انیسویں ترامیم کی منظوری دی ہے اور ان ترامیم کو سینیٹر رضا ربانی کی قیادت میں کام کرنے والی آئینی کمیٹی نے تیار کیا تھا۔ وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے اس آئینی کمیٹی کے ارکان کو پاکستان کا اعلٰی ترین سول اعزاز ‘نشان امتیاز’ دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

انیسویں آئینی ترمیم میں اعلٰی عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی سے متعلق آئین کی شق‘ 175 ۔اے’ میں ترمیم کی گئی ہے اور اس میں جوڈیشل کمیشن میں سپریم کورٹ کے دو سنیئر ججوں کی بجائے چار جج صاحبان کو شامل کیا گیا ہے اور اب جوڈیشل کمیشن کے ارکان کی تعداد سات سے بڑھ کر نو ہوجائے گی۔

آئین کی شق 182 میں اعلی عدالتوں میں ایڈہاک ججوں کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس کا صوابدیدی اختیار واپس لینے اور یہ اختیارجوڈیشل کمیشن کو تفویض کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صوبائی بار کونسل جوڈیشل کمیشن میں ‘ایک سینئر وکیل’ کو نامزد کرتی تھی لیکن اب انیسویں ترمیم کے بعد ‘پندرہ برس تک ہائی کورٹ کی پریکٹس کرنے والے وکیل’ کو نامزد کرنے کی پابند ہوگی۔

انیسویں ترمیم کے تحت قومی اسمبلی کے تحلیل ہونے کی صورت میں ججوں کی بھرتی کے لیے پارلیمانی کمیشن کے تمام اراکین ایوان بالا سینیٹ سے شامل کیے جائیں گے جبکہ پہلے پارلیمانی کمیشن اپنی سفارشات صدر کو بھیجتی تھی اب وزیراعظم کو بھیجے گی۔

انیسویں ترمیم کے تحت سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ججوں کی بھرتی کے متعلق پارلیمانی کمیشن کی کارروائی کو خفیہ تو رکھنے کی شرط عائد کی گئی ہے لیکن اس پر پارلیمان میں بحث ہوسکے گی۔

اسی بارے میں