پٹرول نو فیصد مہنگا ہوگیا

فائل فوٹو، پٹرول سٹیشن
Image caption ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت چھ روپے اکہتر پیسے کا اضافہ ہوا ہے

پاکستان میں اوگرا یعنی آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے سنہ 2011 کے آغاز پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پانچ سے نو فیصد تک اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔

ان نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جنوری 2011 سے ہوگا۔

ادھر پاکستان آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پانچ جنوری کو ہڑتال کرنے اور افغانستان میں تعینات نیٹو افواج سمیت تمام شعبوں کو تیل کی فراہمی معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسلام آباد میں اوگرا کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

اوگرا کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں سب سے زیادہ یعنی نو فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور اب ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت چھ روپے اکہتر پیسے کے اضافے کے ساتھ اناسی روپے سڑسٹھ پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

اس کے علاوہ مٹی کے تیل کی قیمت چار روپے چار پیسے اضافے کے ساتھ چوہتر روپے ننانوے پیسے، لائٹ ڈیزل چار روپے چھتیس پیسے اضافے کے ساتھ سّتر روپے ستانوے پیسے، اور ہائی سپیڈ ڈیزل چار روپے پچیس پیسے اضافے کے ساتھ بیاسی روپے اٹھاون پیسے ہو گئی ہے۔

آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کی ایکشن کمیٹی کے رکن اسرار شیواری نے بی بی سی اردو کے ریاض سہیل کو بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پانچ جنوری کو آئل ٹینکرز نہیں چلیں گے اور نیٹو افواج سمیت تمام شعبوں کو ایندھن کی فراہم روک دی جائے گی۔

اوگرا حکام کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تین سے نو فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور اِسی وجہ سے مقامی طور پر بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوچکا تھا۔مبصرین کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد مہنگائی میں اضافہ ہو گا جس سے عام لوگ بری طرح متاثر ہوں گے۔

اسی بارے میں