سالِ نو پر چار ڈرون حملے، اٹھارہ ہلاک

Image caption 2010 میں پاکستان میں سو سے زیادہ ڈرون حملے ہوئے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سنیچر کو ہونے والے چار ڈرون حملوں میں اٹھارہ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں غیر ملکی اور مقامی طالبان شامل ہیں۔

شمالی وزیرستان میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا تین حملے سنیچر کی صُبح شمالی وزیرستان کے سب ڈویٰژن میرعلی سے تقریباً تیس کلومیٹر دور شمال مغرب کی جانب تحصیل سپین وام میں کیے گئے جبکہ چوتھا حملہ دتہ خیل کے علاقے میں سینیچر کی شام ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ سپین وام کا علاقہ افغان سرحد سے صرف پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔جس جگہ حملے ہوئے ہیں وہاں عام آبادی بہت کم ہے اور دشوار گزار پہاڑی سلسلے ہیں۔

اہلکار کے مطابق پہلے حملے میں مندہ خیل میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں چار افراد ہلاک ہوئے جبکہ غوڑیشکئی کے علاقے میں شدت پسندوں کے ایک مرکز پر دو بار حملہ کیا گیا ہے۔

پہلے حملے میں اس مرکز میں موجود پانچ شدت پسند مارے گئے اور جب حملے کے بعد شدت پسندوں کی ایک گاڑی وہاں پہنچی تو اس سے اتر کر مرکز میں جانے والے مزید پانچ افراد پر ایک اور میزائل داغا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں شدت پسندوں کی پناہ گاہ پر چھ میزائل اور گاڑی پر دو میزائل داغے گئے جس سے مرکز اور گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حملے میں حافظ گل بہادر گروپ کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اہلکار نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں دو غیر ملکی بھی بتائے جاتے ہیں تاہم ان کی قومیت کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا۔

سینیچر کی شام ہونے والے حملے میں میران شاہ سے پینتیس کلومیٹر مغرب میں دتہ خیل کے علاقے محمد خیل میں ایک گاڑی کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جس سے اس میں سوار چار افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

سرکاری اہلکار کے مطابق اس حملے میں مرنے والے تمام افراد غیر ملکی ہیں لیکن ان کی قومیت پتہ نہیں چل سکی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال سے شمالی وزیرستان میں ڈرون حملوں تیزی آئی ہے اور ایک وقت میں کئی ڈرون طیارے فضا میں موجود ہوتے ہیں۔

سرکاری اعداد شمار کے مطابق گزشتہ سال شمالی وزیرستان میں ایک سو بارہ اور جنوبی وزیرستان میں چھ ڈرون حملے ہوئے اور 2011 کے پہلے دن میں امریکی جاسوس طیاروں نے تین حملوں سے سال کا آغاز کیا ہے۔

اسی بارے میں