متحدہ کا اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا اعلان

Image caption چند دن قبل ایم کیو ایم نے وفاقی کابینہ میں شامل اپنے دو وزراء کو واپس بلالیا تھا۔

پاکستانی پارلیمان میں حکومت کی سب سے بڑی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اس اعلان کے ساتھ ہی پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک ہلچل پیدا ہوگئی ہے کیونکہ اس فیصلے کی وجہ سے حکومتی اتحاد بظاہر اپنی اکثریت کھو بیٹا ہے۔

ایم کیو ایم کی جانب سے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ اتوار کو رابطہ کمیٹی اور اراکینِ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں کیا گیا۔ ایم کیو ایم نے اس سے قبل وفاقی کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

اجلاس کے بعد فیصلے کی تفصیل بتاتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنماؤں فیصل سبزواری اور حیدر عباس رضوی نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ملک میں بہتر طرزِ حکمرانی کی کوئی صورت پیدا نہیں ہو رہی ہے اور اب سال کے آغاز میں عوام پر پیٹرول بم گرا دیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جہاں پہلے ایم کیو ایم کے وفاقی حکومت کی فیصلہ سازی کے عمل سے علیحدگی اختیار کی تھی وہیں اب وہ حزبِ اختلاف کا حصہ بنے گی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم اپوزیشن میں بیٹھ کر بھی حکومت کے احسن اقدامات کی حمایت کرتی رہے گی تاہم وہ آر جی ایس ٹی جیسے اقدامات کی حامی نہیں بنے گی۔

انہوں نے کہا کہ پیر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن نشستیں الاٹ کروانے کے سلسلے میں درخواست دے دی جائے گی۔

حکومت کے خلاف عدم اعتماد کے مطالبے کے حوالے سے سوال پر حیدر عباس رضوی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد ذرائع ابلاغ میں تجزیوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے لیکن وہ فی الحال کسی مفروضے پر تبصرہ نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور مفاہمت میں بہت فرق ہے تاہم فیصل سبزواری نے کہا کہ اگر ملکی صورتحال مزید ابتر ہوئی تو ان کے پاس تمام آپشن کھلے ہیں۔

ادھر اتوار کی شام لاہور میں ایک تقریب کے دوران ایم کیو ایم کے فیصلے پر پوچھے گئے سوال پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ حکومت کہیں نہیں جا رہی اور سب اتحادی چلے بھی جائیں تب بھی حکومت رہے گی۔

Image caption ایم کیو ایم نے صوبہ سندھ میں اپنے گورنر کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف سسٹم اور جمہوریت کے حق میں ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ وہ کسی سیاسی بلیک میلنگ کا حصہ بننے کو تیار نہیں ہیں۔

ایم کیو ایم کے اپوزیشن میں بیٹھنے کے اعلان کے بعد بظاہر پیپلز پارٹی کی حکومت قومی اسمبلی میں اکثریت کھو بیٹھی ہے۔

تین سو بیالیس کے ایوانِ زیریں میں اکثریت کے لیے حکومت کو ایک سو بہتّر ارکان کی حمایت درکار ہے اور اب ایوان میں حکومتی بینچوں پر بیٹھنے والے ارکان کی تعداد ایک سو چونسٹھ ہے جن میں پیپلز پارٹی کے ایک سو ستائیس، اے این پی کے تیرہ، ، فاٹا اور آزاد پندرہ، مسلم لیگ فنکشنل کے پانچ جبکہ جے یو آئی نظریاتی، پی پی پی شیر پاؤ، بی این پی اور این پی پی کے ایک ایک ارکان شامل ہیں۔

ایم کیو ایم کے اپوزیشن میں بیٹھنے کے اعلان کے بعد اب قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کی تعداد ایک سو چھہتر تک پہنچ جائے گی جس میں مسلم لیگ نواز کے اکیانوے، مسلم لیگ ق کے پچاس، ایم کیو ایم کے پچیس، جمیعت علمائے اسلام کے سات اور تین آزاد ارکان شامل ہیں۔

اسی بارے میں