’بدعنوانی کے خلاف جہاد کریں گے‘

یوسف رضا گیلانی
Image caption پاکستان میں بدعنوانی ایک بڑا مسئلہ ہے

پاکستان کے وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت سال دو ہزار گیارہ کے دوران بدعنوانی کے خلاف ’جہاد‘ کرے گی۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی اور نجی چینل دنیا ٹی وی پر ایک پروگرام میں براہِ راست انٹرویو دیتے ہوئے وزیرِ اعظم گیلانی نے کہا کہ نئے سال میں بدعنوانی کے خلاف سخت قانون سازی کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کرپشن کا خاتمہ ہمارا نئے سال کا عزم ہے۔ میں نے میاں نواز شریف سے بھی بات کی ہے تاکہ ہم احتساب بِل لا سکیں اور یہ کام اس طریقے سے کیا جائے کہ اس پر کسی کو اعتراض نہ ہو‘۔

خیال رہے کہ دنیا میں انسداد رشوت ستانی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل‘ کی طرف سے ایک حالیہ سروے میں ستتر فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ پاکستان میں گزشتہ تین سالوں کے دوران بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے۔

نامہ نگار ظہیر الدین بابر کے مطابق سرکاری و نجی ٹی وی پر انٹرویو کے دوران وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان میں تمام جمہوری حکومتوں کو اپنے ادوار میں بدعنوانی کے الزامات کا سامنا رہا ہے تاہم یہ الزامات کبھی درست ثابت نہیں ہو سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی نسبت موجودہ دور میں متحرک عدلیہ اور میڈیا، بدعنوانی کو روکنے میں اہم کردار رکھتے ہیں۔ ان کے بقول بدعنوانی کا خاتمہ انتخابات کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے اور بدعنوان لوگوں انتخابات میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔

سرکاری اداروں میں ایسے افسران کی تعیناتیوں، جن پر بدعنوانی کے الزامات ہیں، کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں پاکستانی وزیرِاعظم نے کہا کہ ایسی تعناتیوں کا باضابطہ طریقۂ کار ہے اور جن لوگوں کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے ہیں وہ پہلے بھی اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔

دو ہزار دس میں حج کے لیے پاکستان کے نگراں ادارے سمیت موجودہ حکومت کے دور میں متعدد سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران کے خلاف بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے اور ان کے خلاف مقدمات بھی پاکستانی عدالتوں میں جاری ہیں۔

وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ حکومت، حال ہی میں علیحدگی اختیار کرنے والی اتحادی جماعت جمیعت علمائے اسلام (ف) کو واپس حکومت کا حصہ بنانے کی کوشش جاری رکھے گی۔

علیحدگی کے بعد جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کیا تھا کہ وزیرِاعظم گیلانی کو ان کے عہدے سے ہٹایا جائے۔

سنیچر کو براہِ راست نشر ہونے والے ٹی وی پروگرام میں پاکستانی وزیرِ اعظم نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان تین سال تک حکومتی اتحاد میں شامل رہے لیکن انہوں نے کبھی شکایت نہیں کی۔ ’ہم ان (مولانا فضل الرحمان) کی تنقید کو مثبت انداز میں لیتے ہیں اور وہ اپنی ذاتی رائے رکھتے ہیں‘۔

وزیرِاعظم گیلانی نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبے ان کی ترجیحات ہیں لیکن اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد ان شعبوں کی ذمہ داری صوبوں کو منتقل ہو گئی ہے۔ تاہم ان کے بقول وفاقی حکومت نے صوبوں کو زیادہ وسائل مہیا کیے ہیں تاکہ وہ صحت و تعلیم کے معیار کو بین الاقوامی معیار کے برابر لا سکیں۔

اسی بارے میں