’حملوں سے شدت پسند متحد ہو رہے ہیں‘

Image caption حملے فوج اور حکومت دونوں کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں:گیلانی

پاکستان کے وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں دیے گئے اپنے بیان پر قائم ہیں کہ ڈرون حملے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں اور ان حملوں کی وجہ سے پاکستان میں شدت پسند متحد ہو رہے ہیں۔

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سالِ نو کے پہلے ہی دن امریکی ڈرون طیاروں نے پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں چار حملے کیے ہیں جن میں اٹھارہ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی اور نجی چینل دنیا ٹی وی پر ایک پروگرام میں براہِ راست انٹرویو دیتے ہوئے وزیرِاعظم گیلانی نے کہا کہ ’ہم شدت پسندوں کو عام لوگوں سے الگ کرتے ہیں لیکن ایسے حملوں سے وہ دوبارہ متحد ہو جاتے ہیں‘۔

نامہ نگار ظہیر الدین بابر کے مطابق وزیرِاعظم گیلانی نے کہا کہ ڈرون حملے پاکستانی فوج اور حکومت دونوں کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان، سفارتی اور دیگر زرائع سے امریکہ کو قائل کرنے کی کوشش جاری رکھے گا کہ وہ اپنی ڈرون حملوں کی پالیسی پر نظرثانی کرے۔

بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کے مطابق سنیچر کو ہونے والے حملوں کا نشانہ شمالی وزیرستان کی تحصیل سپین وام اور دتہ خیل کا علاقہ محمد خیل بنا تھا۔

ڈرون طیاروں نے پہلے سنیچر کی صبح مندہ خیل میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا اور اس حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے جبکہ غوڑیشکئی کے علاقے میں شدت پسندوں کے ایک مرکز پر دو بار حملہ کیا گیا۔

پہلے حملے میں اس مرکز میں موجود پانچ شدت پسند مارے گئے اور جب حملے کے بعد شدت پسندوں کی ایک گاڑی وہاں پہنچی تو اس سے اتر کر مرکز میں جانے والے مزید پانچ افراد پر ایک اور میزائل داغا گیا۔

Image caption 2010 میں پاکستان میں سو سے زیادہ ڈرون حملے ہوئے

انہوں نے کہا کہ حملے میں شدت پسندوں کی پناہ گاہ پر چھ میزائل اور گاڑی پر دو میزائل داغے گئے جس سے مرکز اور گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حملے میں حافظ گل بہادر گروپ کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

سینیچر کی شام ہونے والے حملے میں میران شاہ سے پینتیس کلومیٹر مغرب میں دتہ خیل کے علاقے محمد خیل میں ایک گاڑی کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جس سے اس میں سوار چار افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔سرکاری اہلکار کے مطابق اس حملے میں مرنے والے تمام افراد غیر ملکی ہیں لیکن ان کی قومیت پتہ نہیں چل سکی ہے۔

سرکاری اعداد شمار کے مطابق گزشتہ سال شمالی وزیرستان میں ایک سو بارہ اور جنوبی وزیرستان میں چھ ڈرون حملے ہوئے تھے۔

اسی بارے میں