حکومت کو کوئی خطرہ نہیں: وزیر اعظم گیلانی

متحدہ قومی موومنٹ کی حکومت سے علیحدگی کے بعد وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ ملک میں کوئی بحران نہیں ہے اور پیپلز پارٹی حکومت قائم رہے گی۔

انہوں نے یہ بات اتوار کی شب جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ کے بیٹے کی دعوت ولیمہ کی تقریب میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ انہیں میڈیا کے ذریعے ایم کیو ایم کی حکومت سے علیحدگی کی اطلاعات ملی ہیں اور جب تک انہیں مکمل طور پر اس بارے میں معلومات حاصل نہیں ہوجاتی وہ اس وقت تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے۔

ان کے بقول صوبائی حکومت کی ایم کیو ایم کے ساتھ معاملات کو طے کرنے کے لیے بات چل رہی تھی اور اس لیے ان کی ایم کیو ایم کے ساتھ کوئی بات نہیں ہوسکی۔

لاہور سے ہمارے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ جب وزیر اعظم سے یہ سوال کیا گیا کہ ایم کیو ایم کی علیحدگی کے بعد حکومت کو قائم رکھنے کے لیے کوئی متبادل انتظام ہے تو یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ’حکومت قائم رہے گی اور سب کے بغیر بھی قائم رہے گی‘۔

ایک سوال کے جواب میں یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ وہ ہارس ٹریڈنگ کے حق میں نہیں اور اسی لیے انہوں نے تین سال کے دوران نہ تو فارڈر بلاک بنایا اور نہ ہی ہارس ٹریڈنگ کی بلکہ تمام لوگوں کو ساتھ لے کر چلے ہیں ۔

وزیر اعظم سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا ایم کیو ایم کی علیحدگی کے بعد کیا وہ مسلم لیگ قاف کے ان پچیس ارکان سے مدد کے لیے کہیں جو پہلے سے ان کی حمایت کر رہے ہیں تو یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ وہ متفقہ وزیر اعظم ہیں اور کسی سے بھی توقع کرسکتے ہیں۔

مسلم لیگ نوں کے قائد نواز شریف سے توقعات کے بارے میں سوال پر یوسف رضا گیلانی نےکہا کہ نواز شریف کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات ہیں اور نوازشریف جمہوریت اور نظام کو پیٹری اترنے نہیں دیں گے۔

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی طرف سے وزیر اعظم کی تبدیلی کے مطالبہ پر یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمان کی بات کا برا نہیں مانتے ۔ مولانا فضل الرحمان نے جو بات کہی ہے وہ ایک رائے ہے اور اس کا احترام کرتے ہیں تاہم فیصلہ پارلیمان نے ہی کرنا ہے ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ناموسِ رسالت کے قانون میں ترمیم کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی ہے اور شیری رحمان نے ذاتی حیثیت میں توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کے لیے بل پیش کیا ہے ۔

یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کا تعلق عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں سے ہے۔

اسی بارے میں