خیبر ایجنسی میں نیٹو ٹینکر پر حملہ

نیٹو کے ٹرک پر حملے کی فائل فوٹو
Image caption نیٹو کے اوئیل ٹینکرز پر حملے عام بات ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کےمطابق نامعلوم افراد نے نیٹو آئل ٹینکر پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجہ میں ایک ٹینکر تباہ ہو گیا ہے البتہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

خیبر ایجنسی میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کی صُبح ساڑھے دس بجے تحصیل جمرود میں بازار سے آٹھ کلومیٹر دور مغرب کی جانب علاقہ شگئی میں علی مسجد کے قریب افغانستان میں نیٹو کے لیے تیل لے جانے والے تیل کے ایک ٹینکرمیں پہلے سے نصب بم اچانک ایک زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا جس کے نتیجہ میں آگ لگنے سے ٹینکر خاکستر ہو گیا۔

اہلکار نے پشاور میں نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ دھماکے کے بعد آئل ٹینکر میں آگ لگ گئی اور کئی گھنٹوں تک آگ کے شعلے اُٹھتے رہے جس کی وجہ سے پشاور طورخم شاہراہ بھی بھاری ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی۔

اہلکار کے مطابق اس واقعہ کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر افغانستان میں نیٹو کے لیے تیل اور دوسرے سامان لے جانے والی درجنوں گاڑیوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حالت بہتر ہوئے توگاڑیوں کو دوبارہ افغانستان جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دھماکوں سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

یاد رہے کہ خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف گزشتہ ایک سال سے کارروائی شروع کررکھی ہے جس میں سکیورٹی فورسز نے اب تک سینکڑوں شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعوی کیا ہے لیکن پھر بھی پشاور؛تورخم شاہراہ پر افغانستان میں نیٹو کے لیے رسد لے جانے والے گاڑیوں پر حملوں کا سلسلہ نہیں رُک سکا۔

نیٹو آئل ٹینکر میں بم دھماکے کے تین گھنٹے بعد جمرود ہی میں خاصہ دار فورس کے چیک کے قریب ایک اور دھماکہ ہوا ہے جس میں خاصہ دار فورس کے دو اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دھماکے سے خاصہ دار فورس کے تین رہائشی کمرے مکمل طور پر زمین بوس ہوگئے ہیں۔حکام کے مطابق دھماکے میں جانی نقصان اس لیے نہیں ہوا ہے کہ دھماکے کے وقت خاصہ دار فورس کے اہلکار ڈیوٹی پر تھے اور کمروں میں کوئی بھی اہلکار موجود نہیں تھا۔

ادھر نیٹو آئل ٹینکر میں بم دھماکے کے تین گھنٹے بعد جمرود ہی میں خاصہ دار فورس کی ایک چیک پوسٹ کے قریب ایک اور دھماکہ ہوا ہے جس میں خاصہ دار فورس کے دو اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دھماکے سے خاصہ دار فورس کے تین رہائشی کمرے مکمل طور پر زمین بوس ہوگئے ہیں۔ حکام کے مطابق دھماکے میں جانی نقصان اس لیے نہیں ہوا کیونکہ دھماکے کے وقت خاصہ دار فورس کے اہلکار ڈیوٹی پر تھے اور کمروں میں کوئی بھی اہلکار موجود نہیں تھا۔

اسی بارے میں