حکومت کے پاس اب کیا راستے ہیں؟

Image caption حکومت کو سادہ اکثریت کے لیے کم از کم 172 اراکین کی حمایت درکار ہوگی۔

پاکستان میں پیپلز پارٹی کی سربراہی میں قائم حکمران اتحاد سے جمیعت علماء اسلام (ف) اور متحدہ قومی موومنٹ کی علحیدگی کے بعد اپوزیشن کی بینچوں پر بیٹھنے کے بعد اقتداری کھیل میں مسلم لیگ (ق) اور ان کے اندر سلیم سیف اللہ کی سربراہی میں قائم فارورڈ بلاک کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

صدرِ پاکستان اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے پہلے تو مسلم لیگ (ق) کو قاتل لیگ قرار دیا تھا لیکن آج کل ان کا مسلم لیگ (ق) کے ساتھ تواتر سے رابطہ رہتا ہے۔

اگر مسلم لیگ (ق) جس کے الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق تقریباً پچاس اراکین قومی اسمبلی ہیں وہ حکومت سے نہیں بھی ملتے تو دوسرا آپشن مسلم لیگ (ق) کے اندر پہلے سے قائم فارورڈ بلاک کو ساتھ ملانے سے حکومت اپنی عددی اکثریت برقرار رکھ سکتی ہے۔

کیونکہ پیپلز پارٹی کو تین سو بیالیس اراکین کے ایوان میں سادہ اکثریت کے لیے کم از کم 172 اراکین کی حمایت درکار ہوگی۔

ایسے میں پیپلز پارٹی (ایک سو ستائیس ) عوامی نینشل پارٹی (تیرہ) اور فاٹا سمیت آزاد اراکین (پندرہ )، مسلم لیگ فنکشنل (پانچ) ، نیشنل پیپیپلز پارٹی، پیپلز پارٹی (شیرپاؤ) اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے ایک ایک رکن کی حمایت کے ساتھ حکومتی اتحاد کو ایک سو تریسٹھ اراکین کی حمایت حاصل ہوگی۔

جب کہ مولانا فضل الرحمٰن کے اپوزیشن میں جانے کی وجہ سے ان کے مخالف جمیعت علماء اسلام نظریاتی گروپ کے واحد رکن مولوی عصمت اللہ بھی حکومت کی حمایت کرسکتے ہیں اور ایسے میں پیپلز پارٹی کو سادہ اکثریت برقرار رکھنے کے لیے محض آٹھ اراکین کی مزید حمایت درکار ہوگی جو وہ مسلم لیگ (ق) کے فارورڈ بلاک کی حمایت سے پوری کر سکتے ہیں۔

مسلم لیگ (ق) میں سلیم سیف اللہ کی سربراہی میں قائم ہونے والے فارورڈ بلاک میں آٹھ اراکین قومی اسمبلی اور پانچ سینیٹر شامل ہیں۔اس گروپ کے سینیٹر ہارون اختر کہہ چکے ہیں کہ وہ جمہوری نظام کو بچانے کے لیے پیپلز پارٹی کی حکومت کو ووٹ دیں گے۔

پیپلز پارٹی کے پاس تیسرا آپشن چودھری شجاعت حسین کی سربراہی میں قائم مسلم لیگ (ق) کو ساتھ ملانے کا ہے۔ ان کی جماعت میں شامل پیپلز پارٹی کے ہم خیال اراکین جس میں بہادر خان سیہڑ، ریاض پیرزادہ، میر احمدان بگٹی، علی محمد مہر، رضا حیات ہراج اور دیگر شامل ہیں وہ گجرات کے چوہدریوں کو حمایت کے لیے راضی کرسکتے ہیں۔

ویسے بھی مسلم لیگ (ق) جس کے الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق پچاس اراکین قومی اسمبلی ہیں (بشمول آٹھ فارورڈ بلاک کے) ان کے موجودہ حالات یا مستقبل کے سیاسی مفادات مسلم لیگ (ن) سے زیادہ پیپلز پارٹی کے ساتھ وابسطہ ہیں۔

بالفرض اگر چوہدری شجاعت کی مسلم لیگ (ق) پیپلز پارٹی سے نہیں بھی ملتی ہے تو اس صورت میں مسلم لیگ (ق) کے چیف وہپ میاں ریاض پیرزادہ سمیت کم از کم چھ سے آٹھ اراکین پیپلز پارٹی کو ووٹ دے سکتے ہیں۔ کیونکہ چند روز قبل ہی ریاض پیرزادہ نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے جمیعت علماء اسلام (ف) کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم کی تبدیلی کی بات کیوں کی ہے۔

سیاسی حلقوں میں مولانا فضل الرحمٰن اور متحدہ قومی موومنٹ کے ماضی کی سیاسی قلابازیوں کے کردار کو مد نظر رکھتے ہوئے کئی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ دونوں جماعتیں اقتدار کے ‘سوئمنگ پول’ کو چھوڑنے والی نہیں ہیں۔ ہاں البتہ اگر انہیں یقین ہوگیا کہ کوئی تبدیلی ناگزیر ہے تو پھر وہ اقتداری کشتی سے بیچ سمندر میں چھلانگ لگانے کے بھی ماہر ہیں۔

لیکن فی الوقت صورتحال ایسی نظر نہیں آتی کیونکہ بظاہر نہ ‘خفیہ فرشتے’ سرگرم ہیں اور نہ ہی حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) اپنی سب سے بڑی سیاسی حریف جماعت حکمران پیپلز پارٹی کی حکومت گرانے کے موڈ میں ہے۔ جس کی اہم وجوہات خراب تر اندرونی ملکی حالات اور بیرونی صورتحال ہے۔ اس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے افراتفری، بلوچستان میں بغاوت، بد ترین اقتصادی صورتحال اور مہنگائی، امریکہ اور فوج کے ساتھ ورکنگ رلیشن شپ بھی شامل ہے۔

پیر کو لاہور میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے ملاقات کی ہے جنہوں نے یہ بیان دیا ہے کہ وہ جمہوریت کو پٹڑی سے اترنے نہیں دیں گے۔

مسلم لیگ (ن) کے ایسے موقف سے متحدہ قومی موومنٹ اور جمیعت علماء اسلام (ف) کو بڑا جھٹکہ لگا ہے۔ اب تو انہیں شاید پیپلز پارٹی کی حکومت سے علحیدہ ہونے کے ’گناہ بے لذت‘ کی کوئی قیمت بھی چکانی پڑے کیونکہ انہوں نے پورے کے چکر میں آدھا بھی کھویا ہے۔