ڈی آئی خان میں ٹارگٹ کلنگ، تین ہلاک

Image caption ہلاک ہونے والے دونوں اساتذہ شیعہ مسلک کے تھے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کے مطابق اٹھارہ گھنٹوں میں فرقہ وارانہ قتل کی وارداتوں میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور اس کے بعد شہر بھر میں موٹر سائیکل چلانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ اٹھارہ گھنٹوں کے دوران شہر اور مضافاتی علاقوں میں دو اساتذہ سمیت تین افراد کو ہلاک کر دیاگیا ہے۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے دونوں اساتذہ کا تعلق شیعہ مسلک ہے۔

پولیس اہلکار عبیدالرحمن نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ منگل کی صُبح ملتان روڈ پر سکول جانے والے استاد اشفاق کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعہ سے کچھ دیر پہلے گومل یونیورسٹی سٹی کیمپس کے مین گیٹ پر اکنامکس کے پروفیسر منیر شاہ کو فائرنگ کر کے ہلاک کیاگیا تھا۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ گزشتہ شام بھی طارق آباد کے علاقے میں نور دین نامی شخص کو تیز دار آلے سے ہلاک کیاگیا ہے۔

ان تمام واقعات کے بعد ضلعی انتظامیہ نے ڈیرہ شہر میں موٹر سائیکل چلانے پر دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت پابندی عائد کر دی ہے۔ خیال رہے کہ طویل عرصے سے شہر میں شام چھ بجے کے بعد موٹر سائیکل چلانے پر پہلے ہی سے پابندی عائد تھی۔

یکے بعد دیگرے تین افراد کی ہلاکت کے بعد شہر میں خوف و ہراس کے ساتھ ساتھ کشیدگی بھی موجود ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں گشت شروع کر دیا گیا ہے اور مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جارہے ہیں لیکن ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

یادرہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے سنگم پر واقعہ ہے جہاں پہلے سے سُنی شیعہ فسادت کے واقعات چلے آ رہے ہیں۔ یہاں کئی بار شیعوں کے جلوسوں پر خودکُش حملے بھی ہوچکے ہیں جس کے نتیجہ میں درجنوں لوگ مارے گئے ہیں۔