حکومت کو تین دن کا الٹی میٹم

نواز شریف فائل فوٹو

پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے ملک میں جاری سیاسی بحران کے تناظر میں حکومت کو تین دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے اصلاحِ احوال کا مطالبہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں منگل کو ہونے والے پارٹی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا حکومت اپنے اتحادیوں کے زور پر نااہلی کا مظاہرہ کرتی رہی ہے

نواز شریف کا کہنا تھا کہ وزراء کی تعداد کم کی جائے اور بدعنوان وفاقی وزراء کو فوری طور پر اُن کے عہدے سے ہٹایا جائے اور اس کے علاوہ الیکشن کمیشن کی تنظیمِ نو بھی کی جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ پیٹرولیم کی مصنوعات میں حالیہ اضافے کو واپس لیا جائے اور ایسا طریقہ کار اختیار کیا جائے تاکہ اگر پیٹرولیم کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں بڑھتی بھی ہیں تو اس کا کم سے کم بوجھ عوام پر پڑے۔

اُن کا کہنا تھا کہ این آراو سمیت تمام عدالتی فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کیا جائے اور ایسا احتساب کمیشن بنایا جائے جو حکومتی دباؤ سے آزاد ہو۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف نے سابق صدر پرویز مشرف کے احتساب اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور سابق وزیراعلی اکبر بُگٹی کے قتل کی شفاف تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سابق وزیرِاعظم نواز شریف نےچینی سکینڈل کے مجرموں کے خلاف کاروائی کرنے کے علاوہ پنجاب بینک،پاکستان سٹیل ملز میں ہوثنے والی اربوں روپے کی مبینہ بدعنوانی میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا بھی مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ بہتّرگھنٹوں میں مسلم لیگ (ن ) کے مطالبات کا جواب ہاں یا ناں میں دیا جائے۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ اگر اُن کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو اُس صورت میں صوبہ پنجاب سے پیپلز پارٹی کو حکومت سے الگ کر دیا جائے گا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پینتالیس دن تک اُن کی جماعت کے وسیع ایجنڈے پر عمل کرے اور بیس فروری تک مطالبات پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں نیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔

متحدہ قومی مومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ابھی تک ایم کیو ایم اور جے یو آئی کے مقاصد واضح نہیں ہیں اور ایجنڈے کی تکمیل نہ ہونے پر اپوزیشن کی دوسری جماعتوں سے تعاون کیا جائےگا۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکمراں اتحاد میں شامل جمعیت علمائے اسلام اور متحدہ قومی موومنٹ حکومت کی طرف سے وعدے پورے کیے جانے اور بہتر طرز حکومت نہ ہونے کی وجہ سے اتحاد سے علیحدہ ہوئی ہیں جبکہ اُن کی جماعت کچھ ماہ کے بعد ہی حکومت سے علیحدہ ہوگئی تھی۔

واضح رہے کہ اجلاس سے قبل لاہور میں پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثناء اللہ نے کہا تھا کہ اُن کی جماعت تمام سازشوں اور بلیک میلر عناصر کو بے نقاب کر دے گی۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ نواز شریف ملکی مفاد میں سیاسی بحران کے حل کے لیے فیصلہ کریں گے اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نواز کا موقف ہے کہ کسی غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اسی بارے میں