مذہب کے نام پر

Image caption پاکستان میں شدت پسندی کے رحجان کے پھیلاؤ سے مذہب کے نام پر ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان میں مذہب کے نام پر گورنر پنجاب سلمان تاثر پہلی اہم شخصیت نہیں ہیں اور نہ شاید آخری ہوں جنہیں جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ پاکستان میں شدت پسندی کے رحجان کے پھیلاؤ سے ان ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

سلمان تاثیر اگر ناموس رسالت قانون میں ترمیم کی بات کرتے ہلاک ہوئے ہیں تو مذہبی رہنما مفتی سرفراز احمد نعیمی کو لاہور میں جبکہ جعمیت علماء اسلام کے مولانا حسن جان کو پشاور میں خودکش حملوں کی مبینہ مخالفت کی پاداش میں جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔

تاہم پیپلز پارٹی کے ابتدا میں انکار اور اب تائید سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید ملک کی ایک بڑی سیاسی شخصیت یعنی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی وجہ سیاسی سے زیادہ مذہبی تھی۔

پیپلز پارٹی کی حکومت کا موقف اگر اب مانا جائے تو اس قتل کی تمام تر ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے رہنما بیت اللہ محسود کے سر ہے۔ بیت اللہ محسود بعد میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

خیبر پختونخوا کی بڑی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اسفندیار ولی تاہم خوش قسمت تھے کہ خودکش حملے میں محفوظ رہے لیکن ان کی جماعت کے عالم زیب خان کی طرح کے کئی رہنما شدت پسندوں کے ہاتھوں ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان میں صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کے صاحبزادے کا قتل بھی شامل ہے۔

اسی صوبے میں پولیس کو بھی شدت پسندوں کی جانب سے دو اعلی ترین افسران کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔ یہ دو اعلیٰ شہرت کے حامل افسر صفوت غیور اور ملک سعد تھے۔

مردان میں مقیم ڈاکٹر محمد فاروق جوکہ سوات یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی تھے اپنے معتدل اسلامی نظریات کی وجہ سے گزشتہ دنوں ہلاک ہوئے۔ لیکن اسی ملک میں جاوید احمد غامدی جیسے مذہبی رہنما بھی ہیں جنہیں اپنے نظریات کی وجہ سے ملک چھوڑنا پڑا ہے

فروری دو ہزار سات کو پنجاب کی وزیر برائے سماجی بہبود ظل ہما عثمانکو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔ ابتدائی تفتیش میں ملزم کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتا ہے کہ عورتوں کا اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونا اللہ کے احکام کی خلاف ورزی اور مردوں کو محکوم بنانے کی کوشش ہے۔

اسی بارے میں