روشن خیالوں کے لیے شٹ اًپ کال

Image caption پیپلز پارٹی والے اس بات پر متفق ہیں کہ مئی دو ہزار آٹھ میں سلمان تاثیر کو پنجاب کا گورنر آصف علی زرداری کی فرمائش پر بنایا گیا

پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کا ناموسِ رسالت کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اس پر نظرِ ثانی کی بات پر قتل ہونا پاکستان کے سیکولر سوچ کے حامل اور روشن خیال کروڑوں لوگوں کے لیے انتہا پسند مذہبی جنونی طبقے کی جانب سے بظاہر جہاں ایک ‘شٹ اپ کال‘ ہے وہاں پیپلز پارٹی کے لیے ان کی موت ایک بہت بڑا سیاسی دھچکا ہے۔

پیپلز پارٹی کے کئی سرکردہ رہنما مانتے ہیں کہ سلمان تاثیر کا شمار پارٹی کے بانی کارکنوں میں ہوتا ہے اور انیس سو اٹھاسی میں انتخابات کے بعد جب بینظیر بھٹو نے فاروق لغاری کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کا فیصلہ کیا اور سلمان تاثیر کو ان کی مدد کے لیے کہا گیا تو وہ اس فیصلے سے مایوس ہوئے۔ کیونکہ جس طرح ضیاالحق کے دور میں انہوں نے صعوبتیں برداشت کی تھیں وہ خود وزیراعلیٰ کے امیدوار تھے۔

بہر حال پیپلز پارٹی والوں کے بقول سردار فاروق احمد لغاری اپنے لیے مطلوبہ سیاسی حمایت حاصل نہیں کرسکے اور میاں نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب بن گئے۔ پہلے ضیاءالحق اور بعد میں میاں نواز شریف کے ہاتھوں سلمان تاثیر زیرِ عتاب رہے۔ بعد میں سلمان تاثیر الیکشن میں حصہ تو لیتے رہے لیکن پہلے کی طرح سیاست میں سرگرم نہیں رہے اور کاروبار پر زیادہ توجہ دی۔

انہوں نے تقریبا دو دہائیوں میں کاروباری برادری میں نمایاں حیثیت حاصل کی اور بی بی سی کے ساتھ چند ماہ قبل ایک انٹرویو میں انہوں نے خود بتایا کہ وہ ایک ارب ڈالر کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ جس کے بعد وہ ایک بار پھر سیاست کی طرف لوٹے اور پرویز مشرف نے جب محمد میاں سومرو کو نگران وزیراعظم بنایا تو سلمان تاثیر ان کی کابینہ میں شامل تھے۔

سنہ دو ہزار سات کے آخر میں ان کی نگران کابینہ میں شمولیت کے بارے میں بھی پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں کا خیال ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے کوٹہ پر شامل ہوئے تھے جبکہ کچھ کی رائے اس کے برعکس ہے۔

لیکن پیپلز پارٹی والے اس بات پر متفق ہیں کہ مئی دو ہزار آٹھ میں سلمان تاثیر کو پنجاب کا گورنر آصف علی زرداری کی فرمائش پر بنایا گیا۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں جب تلخیاں بڑھیں تو سلمان تاثیر نے مسلم لیگی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان پر تنقید کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے تھے۔ ایسے میں انہوں نے پیپلز پارٹی میں پھر سے اپنا اہم مقام بنا لیا لیکن زندگی نے ان سے زیادہ وفا نہیں کی۔

سلمان تاثیر کے قتل سے پیپلز پارٹی پنجاب میں ایک نڈر لیڈر سے محروم ہوگئی ہے اور ان کا جان نشین مقرر کرنا پیپلز پارٹی کے لیے کافی اہمیت کا حامل ہے۔ پیپلز پارٹی کے پاس گورنر کے امیدوار تو کافی ہوں گے لیکن آصف علی زرداری کو اپنے اعتماد والے افراد شاید کم ہی مل پائیں۔

آج کل کے گرم سیاسی ماحول میں مسلم لیگ (ن) کی نظریں بھی اس تعیناتی پر ہوں گی اور وہ چاہیں گے کہ کوئی جارحانہ مزاج والا شخص پنجاب کا گورنر نہ بنے۔

اس بارے میں بعض تجزیہ کاروں کے بقول میاں نواز شریف نے حکومت کو الٹی میٹم دیتے وقت اشاروں کنایوں میں یہ پیغام وزیراعظم کو دیا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وہ اپنے اختیارات استعمال کریں۔

کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پنجاب کے نئے گورنر کی تقرری سے خود پیپلز پارٹی کی مسلم لیگ (ن) سے مستقبل کے تعلقات کا اندازہ بھی لگایا جاسکے گا۔

پیپلز پارٹی کے ایک وفاقی وزیر نے بتایا کہ جہانگیر بدر، چوہدری منظور، قمر الزمان کائرہ اور بابر اعوان کے نام پنجاب کے گورنر کے لیے ابتدائی طور پر زیرِغور ہیں لیکن کوئی ’سرپرائز‘ بھی مل سکتا ہے اور حتمی فیصلہ صدر آصف علی زرداری کریں گے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت چاہے گی کہ جلد سے جلد پنجاب کا نیا گورنر تعینات ہو اور یہ تقرری اڑتالیس گھنٹوں میں متوقع ہے کیونکہ سلمان تاثیر کی جگ قائم مقام گورنر رانا محمد اقبال بنے ہیں جو پنجاب اسمبلی کے سپیکر ہیں اور ان کا تعلق مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہے۔

اسی بارے میں