ممتاز قادری ریمانڈ پر پولیس تحویل میں

Image caption پولیس کے نام ایک درخواست میں سلمان تاثیر کے صاحبزادے نے موقف اختیار کیا ہے کہ اُن کے والد کو مذہبی سیاسی گروہوں کی سازش کا نشانہ بنایا گیا

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نےگورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس کے اہلکار ممتاز حسین قادری کو ایک روزہ راہدری ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیاہے۔ عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ ملزم کو راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے۔

ملزم ممتاز قادری کو پولیس کے کڑے پہرے میں کمرۂ عدالت میں لایا گیا جہاں پر موجود وکلاء نے نہ صرف اُن کو پھولوں کے ہار پہنائے بلکہ اُن پر پھولوں کی پتیاں بھی نچھاور کی گئیں اور اُن کے حق میں نعرے لگائے گئے۔

اسلام آباد سے نامہ نگار شہزاد کے مطابق ایک وکیل خُرم قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن سمیت تین سو وکلاء نے ممتاز حسین قادری کے مقدمے کی پیروری کرنے کے درخواست دی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کسی شخص کو بھی ناموسِ رسالت قانون کی بےحرمتی یا اُس میں ترمیم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ واضح رہے کہ خُرم قریشی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل میں گرفتار ہونے والے ایک ملزم شیر زمان کے بھی وکیل ہیں۔

اسلام آباد پولیس نے گورنر پنجاب کے بیٹے شہریار ثاثیر کی درخواست میں ملزم ممتاز حسین قادری کے خلاف قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ درخواست میں اُنہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ اُن کے والد کو مذہبی سیاسی گروہوں کی سازش کا نشانہ بنایا گیا اور یہی گروہ اُن کے والد کے خلاف پروپیگنڈا کرتے رہے ہیں۔

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس کے بیس اہلکاروں کوحراست میں لیا ہے جبکہ ملزم ممتاز حسین قادری کے والد اور چار بھائی پہلے ہی پولیس کی تحویل میں ہیں۔

اس تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی بنیامین نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں اگرچہ ملزم ممتاز حیسن قادری نے کہا ہے کہ اُنہوں نے سلمان تاثیر پر جو گولیاں برسائیں یہ اُنہوں نے کسی کے اُکسانے پر نہیں بلکہ یہ اُن کا ذاتی فعل تھا تاہم اُن محرکات اور اُن عناصر کی جانچ پڑتال کی ضرورت ہے جو اس اقدام کے پیچھے کارفرما ہیں۔

اسلام آباد پولیس کے سکیورٹی ڈویژن کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سلمان تاثیر کے سکیورٹی کے ذمہ داروں کی طرف سے اسلام آباد پولیس سے کوئی حفاظتی دستہ فراہم کرنے کی درخواست نہیں کی گئی تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ سیکورٹی ڈویژن صرف اُسی وقت کسی صوبے کی اہم شخصیت کو سیکورٹی فراہم کرتی ہے جب اس ضمن میں کوئی درخواست دی جائے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر کسی بھی صوبے کے گورنر اور وزیر اعلی کو متعلقہ صوبے کے پولیس ہی سیکورٹی فراہم کرتی ہے۔

اسی بارے میں