علما، جماعتیں اب پیچھے نہ ہٹیں: طالبان

سلمان تاثیر
Image caption ’جس شخص نے سلمان تاثیر کا نماز جنازہ پڑھایا یا جو لوگ آج ان کی تعرفیں کررہے ہیں وہ ان کے بقول سب توہینِ رسالت کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں‘

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے کہا ہے کہ جن سیاسی جماعتوں اور علما نے توہینِ رسالت کے حوالے سے پہلے فتوی جاری کیے ہیں ان کو اب ان فتووں سے پیچھے ہٹنے کی بجائے ان پر ثابت قدم رہنا چاہیے اور اس قانون میں ترمیم کی مخالفت کو جاری رکھنا چاہیے۔

تنظیم کے نائب امیر احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ جس طرح گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ان کے اپنے محافظ نے قتل کیا ایسے اور افراد مستقبل میں بھی پیدا ہوتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’جس شخص نے سلمان تاثیر کا نماز جنازہ پڑھایا یا جو لوگ آج ان کی تعرفیں کررہے ہیں وہ ان کے بقول سب توہینِ رسالت کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں‘۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ مذہبی جماعتوں اور علما کو اب ان فتووں سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے جو انہوں نے توہینِ رسالت کے قانون میں ترمیم کے سلسلے میں پہلے جاری کیے تھے۔

احسان اللہ احسان کے بقول پاکستان میں کوئی شرعی قانون رائج نہیں جو اس بارے میں فیصلہ دے سکے کہ ممتاز قادری کا عمل ’قانونی تھا یا غیر قانونی‘۔

خیال رہے کہ منگل کو اسلام آباد میں پنچاب کے گورنر سلمان تاثیر کو ان کے محافظ نے گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے مطابق حراست میں لیے گئے ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے یہ حملہ اس لیے کیا کہ گورنر پنجاب نے ناموسِ رسالت قانون کو ایک کالا قانون کہا تھا۔

سلمان تاثیر نے بی بی سی سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انھیں ان مولویوں کے فتووں کا کوئی خوف نہیں جنھوں نے بسنت، ذوالفقار علی بھٹو اورمحترمہ بے نظیر بھٹوکے خلاف فتوے لگائے اور جنھوں نے قائد اعظم کو کافرِ اعظم کے ناموں سے پکارا۔

اس سے پہلے جمعہ کو ملک بھر میں مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی اپیل پر ناموس رسالت قانون میں مبینہ ترمیم کے خلاف احتجاج اور ہڑتال کی گئی تھی۔

اسی بارے میں