تاثیر قتل کیس: ملزم کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قتل میں ملوث ملزم ممتاز قادری کو پانچ روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔

اس مقدمے کے تفتشی افسر نے عدالت سے ملزم کا دس روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کی تھی۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ملک اکرم اعوان نے آئندہ سماعت پر ملزم کا میڈیکل چیک اپ کروانے اور اس کی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ممتاز قادری کو گیارہ جنوری کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ ملزم کے وکلاء میں شامل راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار کے صدر نے تفتیشی افسر کی طرف سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی مخالفت کی اور کہا کہ جب پولیس نے قتل میں استعمال ہونے والی گن اپنے قبضے میں لے لی ہے تو اب اور اُنہیں کونسی چیز ملزم سے برآمد کرنی ہے جس کے لیے یہ ریمانڈ مانگ رہے ہیں۔

تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ پولیس اُن محرکات کے بارے جاننا چاہتی ہے جس کی وجہ سےگورنر پنجاب کا قتل ہوا۔

اس سے پہلے چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کو ایک روز کے لیے اسلام آباد میں منتقل کرنے کا حکم دیا تھا اور اس ضمن میں اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے یعنی سی ڈی اے کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت قرار دیا گیا تھا۔

تاہم وکلاء نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ملک اکرم اعوان کو اسلام آباد آنے سے روک دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ اسلام آباد نہیں جائیں بلکہ ملزم کو راولپنڈی لایا جائے کیونکہ قانون کا تقاضا بھی یہی ہے۔

ملزم ممتاز قادری کو اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون میں واقع اقبال ہال لایا گیا تھا۔

یاد رہے کہ جمعرات کو ممتاز قادری کو راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جانا تھا۔ تاہم سکیورٹی خدشات کے باعث انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کو اسلام آباد منتقل کیا گیا ہے جہاں ملزم کو پیش کیا جائے گا۔

بدھ کے روز اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نےگورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس کے اہلکار ممتاز حسین قادری کو ایک روزہ راہدری ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیاہے۔

عدالت نے پولیس کو حکم دیا تھا کہ ملزم کو راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے۔

دوسری جانب لاہور میں آج گورنر ہاؤس میں سلمان تاثیر کی رسمِ قل ہوئی جس میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے گورنر پنجاب کے بیٹے شہریار ثاثیر کی درخواست میں ملزم ممتاز حسین قادری کے خلاف قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ درخواست میں اُنہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ اُن کے والد کو مذہبی سیاسی گروہوں کی سازش کا نشانہ بنایا گیا اور یہی گروہ اُن کے والد کے خلاف پروپیگنڈا کرتے رہے ہیں۔

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس کے بیس اہلکاروں کوحراست میں لیا ہے جبکہ ملزم ممتاز حسین قادری کے والد اور چار بھائی پہلے ہی پولیس کی تحویل میں ہیں۔

اسی بارے میں